مولانا عبد العزیز نے پاکستان میں داعشی خلافت نافذ کرنے کا اعلان کردیا
لال مسجد کے تکفیری خطیب مولاناعبد العزیز نے ایک بار پھر ملک میں داعشی طرز پر مبنی نظام کے قیام کے لئے تحریک نفاذ القرآن و السنہ چلانے کا ااعلان کیا ہے۔
اسلام آباد جہاں پر پر امن شہریوں کو امام حسین علیہ سلام کی یاد میں جلوس عزا برآمد کرنے کی اجاز ت نہیں وہاں پر یہ دہشتگرد پریس کانفرنس میں پاکستان میں قرآن السنہ پر مبنی ایسے نظام کے قیام کے لئے تحریک چلانے کا مطالبہ کررہا ہے جو ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی سے بھرا ہوا ہے، جبکہ اسکا حقیقت میں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ریاست پاکستان کے باغی مولوی عبدالعزیز نے نواز حکومت کے دارلخلافہ میں پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ وہ حکومت سے ٹکراو نہیں چاہتے بلکہ اپنی تحریک پرامن چلائیں گے۔
باغی مولوی عبدالعزیز نے اپنی تحریک کا منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف طبقوں کے لئے اسپیکر کے استعمال کو محدود کیا جائے، اسکول و مدارس کے نصاب کو آپس میں ملایا جائے، عدالتوں میں قرآن و سنت کا نفاذ اور تکفیری علماٗ کو ججوں کی جگہ قاضی مقرر کیا جائے، میڈیا پر پابندی،ٹیکسس اور مخلوط تعلیمی نظام ختم کیا جائےاور دیگر قوانین اور آئین بنانے کے لئے ایک ہزار تکفیری علماٗ پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے،جو قوانین مرتب کریں۔
اس منشور کو پڑھ کرکوئی بھی ذی شعور انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ یہ مولوی آئین پاکستان کے مخالف نئی تحریک شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مولوی عبدالعزیز اور انکے ہواری داعش کے نظام کو آئیڈیل تصور کرتے ہیں، لہذا شام و عراق کےحالت ہمارے سامنے ہیں جہاں ان داعشیوں نے امن تباہ کردیا ہے اور ایسا ہی کچھ پاکستان میں کرنے کا مولوی عبدالعزیز ارادہ رکھتے ہیں۔
تشویش اس بات کی ہے کہ دارلخلافہ میں نواز حکومت کی ناک کے نیچے ایک باغی نئی تحریک آئین و قانون پاکستان کے خلاف چلانے کا اعلان کررہا ہے لیکن انکے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھایا گیاجو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نواز حکومت سعودی ایما پر پاکستان میں بھی تکفیریوں کو مضبوط کرنے کے کا ارادہ رکھتی ہے۔