انڈیا میں شیوسیناپاکستان میں سپاہ صحابہ،تقابلی جائرہ
بھارت میں گذشتہ دونوں اپنی بربریت میں شہرت حاصل کرنے والی تنظیم شیوسینا کی مسلمانوں کے خلاف ابھرتی کاروائیوں نے ہر مسلمان کو شدید دکھ پہنچایا ہے، مگر شیوسینا کی جانب سے بھارتی مسلمانوں پر کیئے جانے والے ہر ظلم کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتارہا کہ ایسا ظلم کہیں اور بھی دیکھا گیاہے، ذہن پر زور لگانے کے بعد انداز ہوا ہے کہ ایسا تو ہمارے ہی ملک میں صحابہ کے نام پر بنائی جانے والی ایک دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ نے مکتب اہلیبت ؑ کے ماننے والوں اور مخالفین پر کیئے ہیں ۔
شیوسینا اور سپاہ صحابہ کے جرائم میں موازنہ
شیوسینا بھارت میں مذہب کے نام پر کافر قرار دیکر مسلمانوں کو قتل کیا، تو پاکستان میں سپاہ صحابہ نے بھی مذہب کے نام پر کافر قرار دیکر شیعہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا۔
دونوں تنظیمیں اپنے ملک کی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں مزے لوٹ رہی ہیں، ہندوستان شیوسینا ہندو اسٹبلشمنٹ اور سپاہ صحابہ پاکستان میں ضیائ کے دور میں بنائی جانے والی تکفیری دیوبندی اشٹبلشمنٹ کی پیداور ہے۔
شیوسینا بھارتی مسلمانوں پر مظالم اور انکے خلاف غلیظ پروپگینڈا کرکے انہیں محدود کرکے تیسرے درجہ کا شہری بنانا چاہتی ہے، سپاہ صحابہ بھی ایسا کچھ پاکستان میں مکتب اہلیبت کے چاہنے والوں کے ساتھ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن دونوں تنظیم اس میںمکمل ناکام رہیں۔
اخباری رپورٹس کے مطابق اسی ناکامی کے بعد شیوسینا نے ہندوستان میں مسلم کش فسادات کروانے کے لئے گائے ذبح کرکے مسلمانوں کے گھروں کے سامنے پھینکیں تاکہ ہندوں کو اشتعال میں لایا جائے، اسی طرح سپاہ صحابہ نے جھنگ اور پنجاب کے کئی علاقوں میں جانوروں پر صحابہ کے نام لکھ کر چھوڑ دیئے تاکہ شیعوں کے خلاف سنیوں میں نفرت پیدا کی جائے اور شیعہ سنی فسادات ابھاری جائیں لیکن قانوں نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کاروائی نے اس سازش کو ناکام بنایا اور گرفتار افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے خود فسادات کروانے کے لئے ایسا اقدام اُٹھایا۔
یہ وہ اقدامات ہیں جو شیوسینا نامی بھارتی انتہاپسند تنظیم اور پاکستانی انتہا پسند جماعت سپاہ صحابہ میں مشترکہ پائے گئے ہیں۔ ان دونوں کا مقصد نفرت پھیلانا، انتہا پسند ی کو فروغ دینا اور تفرقہ پیدا کرناہے، لیکن اس میں یہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، بھارت میںمسلمانوں کے خلاف شیوسینا کو شکست سامنا کرنا پڑا ،اسی طرح پاکستان میں سپاہ صحابہ مکتب اہلیبت علیہ سلام کے بیس ہزار افراد کو قتل کرنے کے باوجود ناکامی سے دوچار ہے۔