آیت اللہ شیخ باقرالنمر کی حمایت اور آل سعود کو انتباہ
جرمن کے عوام نے مظاہرہ کرکے آیت اللہ شیخ باقر النمر کی حمایت کی اور آل سعود کو سختی سے خبردار کیا ہے۔
آل سعود کی جانب سے سرزمین حجاز کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کےبعد ساری دنیامیں ان کی حمایت میں مظاہرے ہورہے ہیں۔
ان مظاہروں میں بھرپور طرح سے آل سعود کی مذمت کی جارہی ہے۔ اسی طرح کا ایک مظاہرہ جرمنی کے دارالحکومت برلین میں جمعرات کو ہوا۔ مظاہرین نے برلین میں سعودی عرب کے سفارتخانے کے سامنے اجتماع کرکے آیت اللہ شیخ باقر النمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کو غیر منصفانہ قراردیا اور عالمی اداروں نیز انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ آل سعود پر دباؤ ڈالیں۔
مظاہرین نے آل سعود کے خلاف نعرے لگائے اور اپنے محبوب و مظلوم عالم دین کی غیر مشروط رہائی پر زور دیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی دی گئی تو آل سعود کی حکومت کے لئے جہنم کے دروازے کھول دئے جائیں گے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سعودی حکومت، شام، عراق، یمن اور بحرین میں اپنی مجرمانہ کارروائیاں ختم کرے۔
قابل ذکرہے کہ حکومت برلین نے بھی رواں ہفتے میں شیخ نمر کے خلاف پھانسی کی سزا کے فیصلے کی مخالفت کی ۔
آیت اللہ شیخ باقر النمر سعودی عرب میں ایک ہردلعزیز عالم دین اور مذہبی رہنما ہیں انہوں نے ہمیشہ ارض وحی کے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ شیخ باقر النمر کو آل سعود کے کارندوں نے شہر قطیف سے نقص امن کے بہانے گرفتار کرلیا تھا اور آل سعود کی نام نہاد عدالت نے انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ آل سعود کی عدالت کے اس فیصلے پر ساری دنیا نے احتجاج کیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں منجملہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آل سعود کو وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار قراردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں تیس ہزار سے زائد سیاسی قیدی ہیں۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں آل سعود کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔








