نفرت آمیز تقریر پر مسجد اور مدرسہ کی انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی جائے گی، حکومتی حکمت عملی
ملک میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے حکومت نے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے، جس کا آغاز اسلام آباد سے کر دیا گیا ہے۔ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے حکومت کی نئی حکمت عملی کے تحت اسلام آباد کی تمام مساجد، مدارس اور دیگر عبادت گاہوں میں شدت پسندی اور انتہاپسندی سے متعلق لٹریچر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی سلسلے کے تحت مساجد، مدارس کو مراسلے جاری کئے گئے ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ شدت پسندی اور نفرت آمیز مواد کی برآمدگی کی صورت میں متعلقہ انتظامیہ کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ مساجد اور مدارس کے منتظمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر کنٹرول مسجد و مدرسہ میں نہ تو اشتعال انگیز لٹریچر رکھیں، نہ کسی کو تقسیم کرنے دیں اور نہ کسی مکو فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تقریر کرنے دیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی مسجد یا مدرسے میں کسی نے فرقہ واریت پر مبنی تقریر کی تو اس کے ساتھ اس مسجد و مدرسہ کی انتظامی کمیٹی کے تمام اراکین کو بھی دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی پر ملک بھر میں مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے مساجد و مدارس کی سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار مانیٹرنگ کریں گے اور ایسی صورت حال میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی