داعش اور القاعدہ سمیت تمام دہشتگرد تنظیموں کا تعلق اہلسنت سے نہیں بلکہ تکفیری وہابی فکر سے ہے، فہیم الدین شیخ
سنی تحریک کے رہنما فہیم الدین شیخ نے شیعت نیوز کے نماٗندے سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
پاکستان علماء و مشائخ اہلسنت کی طویل جدوجہد و قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا، اگر 1940ء میں بنارس سنی کانفرنس نہ ہوتی، وہاں ہمارے اکابرین مولانا عبدالحامد بدایونی، مبلغ اسلام شاہ عبدالعلیم میرٹھی، پیر جماعت علیشاہ و دیگر اہلسنت کے اکابرین قائداعظم محمد علی جناحؒ کی حمایت کا اعلان نہ کرتے تو قیام پاکستان کا خواب پورا نہیں ہوسکتا تھا، تاریخ گواہ ہے کہ جب ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا تصور پیش کیا، تو وہ شرقپور شریف میں حضرت میاں شیر محمد شرقپوری کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دعا اور التجا کی۔ پاکستان ہمارے اکابرین کی دعاﺅں اور قربانیوں کا ثمر ہے، القاعدہ، داعش، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان و دیگر کالعدم دہشتگرد تنظیموں کا تعلق خارجی ٹولے سے ہے، جو نام تو اسلام کا لیتے ہیں، پر کام بیرونی ایجنڈے پر کرتے ہیں، خارجیوں نے اسلام کے تشخص کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں پامال کیا ہے، پاکستان میں اکثریت اہلسنت یعنی یارسول اللہ کا نعرہ بلند کرنے اور مزارات کے ماننے والوں کی ہے، ملک کی اکثریت بھولے بھالے سنیوں کو بھکانے یا ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے یہ خارجی ٹولہ اہلسنت کا نام استعمال کرتے ہیں، جو قانون اور اہلسنت کے خلاف عمل ہے، علماء و مشائخ اہلسنت بالخصوص پاکستان سنی تحریک نے ان کے اسلام و ملک دشمن چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا، عوام اب انہیں اچھی طرح پہچان چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خارجی دہشتگرد ملک میں دن بدن کمزور ہو رہے ہیں، آپریشن ضرب عضب نے نہ صرف ان کی کمر توڑی، بلکہ ان کی پاکستان و اسلام دشمن کارروائیوں کو ناکام بنایا ہے۔ آج عوام جان چکی ہے کہ پاکستان بنانے کی مخالفت کرنے والے ہی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں، پاکستان و اسلام دشمن قوتوں کو تعلیم، شعور اور قلم کی طاقت سے ختم کیا جاسکتا ہے، جس پر علماء و مشائخ اہلسنت شب و روز کام کر رہے ہیں۔