ٹیکسلا ; مسجد اللہ والی کے خطیب مولوی افنان نے نعوذ بااللہ حضرت محمد کو دہشتگرد قرار دے دیا
ملی یکجہتی کونسل کا خطبات جمعہ کمیشن تشکیل دینا اس بات کا غماز ہے کہ معاشرے کے لئے یہ خطبات کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔ راہ راست کی جانب افراد معاشرہ کی رہنمائی کرتے ہیں، جمعہ کا خطبہ ایسا طاقتور میڈیا ہے جس کے ذریعے معاشرے کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ گذشتہ دنوں ٹیکسلا پولیس کو ایک درخواست موصول ہوئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ مسجد اللہ والی کے خطیب مولوی افنان نے دوران خطبہ جمعہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملا عمر، اسامہ بن لادن اور ملک اسحاق دہشت گرد ہیں تو نعوذ بااللہ محمد (ص) دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد تھے۔ درخواست گزار نے لکھا کہ جونہی میں نے یہ الفاظ سنے بمشکل اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر مسجد سے باہر آگیا اور میں نے یہ بھی سنا کہ مولوی افنان نے افواج پاکستان اور تمام سکیورٹی اداروں کے خلاف بھی الفاظ استعمال کئے۔ جن کے بارے میں سید اجمل حسین گیلانی سے بات کی، جنہوں نے تمام علماء سے بات کی اور اس توہین پر مولوی افنان کے خلاف پولیس کارروائی عمل میں آئی۔
پولیس جب مذکورہ مولوی کو تھانے میں لائی تو جان بچانے کے لئے تکفیری ملاں نے باآواز بلند نعتیں پڑھنا شروع کر دیں، اور صاف مکر گیا کہ اس نے ایسی کوئی گستاخی کی ہے۔ مولوی افنان نے حلفاً بیان دیا کہ میں نے حضور (ص) کی طرف دہشت گردی کی نسبت صراحتاً یا اشارتاً نہیں دی اور میرا عقیدہ ہے کہ جو بھی شخص حضور (ص) کی طرف صحابہ کرام رضی اللہ علیھم یا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف دہشت گردی کی نسبت کرے وہ کافر ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کا نکاح ٹوٹ گیا اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ہے۔ یوں اپنا نکاح توڑوانے کے بعد مولوی افنان نے اپنی جان چھڑائی۔ بہر حال یہ واقعہ نقل کا کرنے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والوں کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ہے، مولوی افنان جیسے دہشت گرد جو شہریوں کو کھلم کھلا دہشت گردی کا درس دیتے ہیں، اور شدت پسندانہ فکر کی ترویج کرتے ہیں، ان کے خلاف بھی ایک ضرب عضب شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔