ایران اور مغربی ممالک میں ہونیوالا معاہدہ خوش آئند ہے، علامہ ساجد نقوی
علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایران اور مغربی ممالک میں ہونیوالے معاہدہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ معاہدہ سے نہ صرف ایران و مغربی ممالک میں جاری تناؤ کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس کے خطے پر مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے اتحاد کیلئے موثر عمل ثابت ہوگا، معاہدہ کے بعد اب پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے بھی راہ ہموار ہو تی نظر آرہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 13 سال کے طویل عرصہ سے جاری مذاکرات کے بعد مغربی ممالک اور برادر ہمسایہ ملک ایران میں ہونیوالے حالیہ معاہدہ پر اپنے رد عمل میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدہ سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہمیشہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں اور طاقت کا استعمال یا پابندیاں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں۔
انہوں نے اس معاملے کو ’’دیر آید درست آید ‘‘ کا مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ سے جہاں ایک طرف ایران کی اقتصادی مشکلات کا خاتمہ ہوگا وہاں ایران و مغربی ممالک میں جاری تناؤ کا خاتمہ ہونے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدہ سے جہاں خطے پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور اسلامی ممالک کے اتحاد میں بھی اہم پیش رفت ہوگی تو وہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مظلوم فلسطینیوں پر عشروں سے جاری اسرائیلی ظلم و بربریت اور جارحیت کو روکنے اور قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کیلئے عوامی جدوجہد کو بھی تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نئی اور بدلتی صورتحال میں پاکستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس معاہدے کے بعد خطے کی معاشی صورتحال اور تجارتی روابط مزید مضبوط ہونگے جس کے صوبہ بلوچستان سمیت پورے ملک کی اقتصادی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور اس معاہدے سے دہشت گردی کے خاتمے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کو عوام کی خاطر اقتصادی مفادات آگے بڑھ کر سمیٹنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اب وقت آگیاہے کہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور شکوک و شبہات کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدہ کو اسلامی ممالک کو آپس میں متحد کرنے اور باہمی معاملات افہام و تفہیم سے حل کرانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے اب پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے میں حائل ہونیوالی رکاوٹیں بھی دور ہونگی۔ حکومت کو چاہیے وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے فی الفور عملی اقدامات اٹھائے تاکہ ملک سے توانائی بحران کا خاتمہ ہوسکے۔