مقبوضہ فلسطین

اسرائیل کے خلاف برسرپیکار مقاومتی تنظیم حماس کو داعش نے ٭کافر٭ قرار دیدیا

غزہ میں حماس کے لیے اب ایک نیا محاذ کھُل گیا ہے۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا حامی ایک فلسطینی دہشتگرد گروپ اسرائیلی ایماء پر اپنی مسلح کارروائیوں سے ایک طرف تو اسرائیل کو اشتعال دلا رہا ہے اور دوسری جانب حماس کے لیے خفت اور دباؤ کا سبب بن رہا ہے۔

حماس اس دہشتگرد گروپ کو اپنی سکیورٹی پوسٹس پر ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں اور اُن حالیہ راکٹ حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، جس کے رد عمل میں حماس کو، اسرائیلی انتقامی کارروائیوں اور اپنے خلاف سخت تر ملٹری ایکشن کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ یہ جہادی سلفی گروپ گرچہ اتنا مضبوط نہیں ہے کہ حماس کے لیے کوئی بڑا خطرہ بنے تاہم اس نے حماس کے لیے مزید مشکلات ضرور کھڑی کر دی ہیں۔

گزشتہ ہفتے اس دہشتگرد گروپ کے خلاف حماس کے ایک کریک ڈاؤن کے دورن ایک مطلوب جاسوس اُس وقت ہلاک ہو گیا تھا، جب اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کارروائی نے اس دہشتگرد گروپ اور حماس کے مابین مستقبل قریب میں کسی قسم کی مصالحت کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ جاسوس یونس الھنور کئی مہینوں سے حماس کو مطلوب تھا اور اُس کی ہلاکت نے جہادیوں کی طرف سے شدید انتقام کے جذبے کو غیر معمولی حد تک بھڑکا دیا ہے۔ جنوبی غزہ میں الھنوز کی رہائش کی دیوراوں پر رنگین اسپرے سے تحریر کردہ ایک پیغام کے الفاظ کچھ یوں ہیں،’’حماس کافر ہیں‘‘۔ مزید یہ کہ ’’بدلے سے پہلے کوئی تعزیت نہیں‘

متعلقہ مضامین

Back to top button