پاکستان

لال مسجد میں سازشیںہوتی ہیں،آرمی چیف دنیا کے سب سے بہادر جنرل ہیں، سنی تحریک

پاکستان سنی تحریک کے تحت منعقدہ ’’جانثاران مصطفیﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری، علامہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، علامہ صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی اور دیگر مقررین نے کہا ہے کہ جب تک نواز شریف اپنی بغلوں سے دہشت گردوں کو نہیں نکالے گا پھانسی دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بتائیں کہ وہ طالبان کے ساتھ ہیں یا سنیوں کے ساتھ ہیں۔ اگر سنیوں کے ساتھ ہیں تو پھر وہ اس بات کا جواب دیں کہ انکے کارکنوں نے شہر میں عید النبیﷺ کے پوسٹرز کیوںکر پھاڑیں ہیں اور اس جلسہ کے پوسٹرز کیوں ہٹائیں ہیں۔ لال مسجد، مسجد ضرار بن چکی ہے، جہاں مسلمانوں کو قتل اور مذہبی عبدت گاہوں پر حملوں کی سازش کی جاتی ہے۔ حکومت وقت لال مسجد کو گرادے ہا پھر اس کی تاریخ پڑھ کر اس مسجد کو لبیک یا رسول اللہﷺ کہنے والوں کے حوالے کرے، تاکہ امن کا پرچم لہرا کر دہشت گردی کو ملیا میٹ کیا جاسکے۔مولانا عبدالعزیزان دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں جو پھولوں جیسے بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہیں۔ حکومت انہیں فوری گرفتار کرکے بغاوت کا مقدمہ درج کرے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف پاکستان کے ہی نہیں پوری دنیا کے سب سے بہادر جنرل ہیں۔ جنہوں نے دہشتگردوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ پاکستان کی پوری قوم جنرل راحیل شریف کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان، صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، ڈی جی رینجرز، ڈی جی پولیس سے مطالبہ ہے کہ اس ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کانفرنس سے علامہ ڈاکٹر جمیل راٹھور ، علامہ سید شاہ عظمت علی شاہ ہمدانی، علامہ ابرار احمد رحمانی ، علامہ مولانا محمد رضا قادری، سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما طارق محبوب، مفتی عابد مبارک، پیر سید اعجاز شاہ، صوبائی صدر پی ایس ٹی بلوچستان محمد علی جتک، علامہ رضا خان، ڈاکٹر نور احمد قاسمی، مفتی غلام نبی فخری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ سانحہ پشاور کے معصوم بچوں نے خوارج کا مقابلہ کیا ہے جس کا مقابلہ ہمارے قائدین نے 1990 سے شروع کیا اور آج تک ہمارے کارکنان اس کا مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قائدین کا کیوں کر بھول سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے قائدین کے جنازے اسی نشتر پارک سے اٹھائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشگردوں کی فہرست میں ایک بھی اہلسنت کا اکابر یا کارکن لوگوں کو نظر نہیں آئے گا۔ انہوں نے الطاف حسین کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکنوں نے آج شہر میں عید میلادالنبیﷺ کے پوسٹر پھاڑے ہیں تو وہ جواب دیں کہ وہ طالبان کے ساتھ ہیں کہ سنیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اس ملک میں سوشلزم کا نعرہ لگانے والوں نے کچھ نہیں دیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم ، صحت اور انصاف ان شوسلزم کا نعرہ لگانے والی جماعتوں نے جب عوام کو نہیں دیا ہے اس لئے ہمیں ان تمام کو مستردکرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اہلسنت کا نام استعمال کرنے والی کالعدم تنظیموں پر حکومت فوری طور پر پابندی عائد کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہ ہیں لیکن بھارت ہمارا دشمن ہے اور وہ ہماری پاک فوجیوں پر حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں آقا ہی کا نظام ہی چلے گا۔ 12 ربیع الاول کے بعد میڈیا کی جانب سے پی ایس ٹی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے کہ کیوں کر ہمارے جلوسوں اور پروگرامز کو کوریج نہیں دی جارہی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر آصف اشرف جلالی نے کہا کہ آج اہل حق نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارے عزائم آج بھی پختہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج میلاد منانے والوں نے دہشتگردی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے لئے تیار ہیں۔ 8 سال قبل سانحہ نشتر پارک کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا جاتا تو سانحہ پشاور رونما نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نواز شریف اپنی بغلوں سے دہشت گردوں کو نہیں نکالیں گے پھانسی دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزارات مقدسہ پر جب دھماکے ہوئے اس وقت اگر ہمارے حکمران بیدار ہوجاتی تو آج جس چیلنج کا ہمیں سامنا ہے ایسا نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی فری اسٹیٹ اسی وقت بن سکتی ہے جب یہ صوفی اسٹیٹ بنے گی۔ جے یو پی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب اہلسنت کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے پاکستان میں آنے کے بعد اب متحد ہونے کا سوچنا مضحکہ خیز ہوگا کیونکہ اس داعش کا مقابلہ صرف صرف اتحاد اہلسنت سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران ان دہشتگردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد اب بھی اس بات کو تسلیم نہ کرنا کہ اس ملک میں داعش اور دیگر دہشتگردوں نے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں اس کو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران بے حس اور ان دہشتگردوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کو تیار نہیں ہیں۔ اس لئے اب ضروری ہے کہ اس کا مقابلہ ہمیں متحد ہوکر ازخود کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد صرف مشرف پر حملے کرنے والوں تک نہیں بلکہ ان دہشتگردوں کو پھانسی دینے کا عمل شروع کیا جائے۔ مہتمم دارالعلوم امجدیہ علامہ صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھاجائے اب ہمیں ایسی فورس بنانی ہوگی، جو ان دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیں سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں طالبان، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو سپورٹ کرنے والوں کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعے بے نقاب کرنا ہوگا۔ علامہ ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ آج ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ آج مسلمانوں کے لیڈر وہ بنے ہوئے ہیں جو مسلمانوں کے سب سے بڑے قاتل ہیں۔ علامہ سید شاہ عظمت علی شاہ ہمدانی نے کہا کہ جب تک ملک میں اللہ کا قانون نافذ نہیں ہوگا اس وقت تک ظلم و بربیت اور دہشتگردی و انتہاء پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اور سانحہ پشاور سمیت دیگر سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔ جماعت اہلسنت کے رہنماء علامہ ابرار احمد رحمانی نے کہا کہ ہم سب کو مل کر باطل قوتوں کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم متحد ہوئے بغیر امریکی اور طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کسی صورت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اہلسنت سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتیں اور تنظیمات پر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ علامہ مولانا محمد رضا قادری نے کہا کہ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے اسلام دشمن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جائے۔ سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما طارق محبوب نے کہا کہ ہم میلاد والے ہیں فساد والے نہیں۔ سانحہ پشاور میں کے رونما ہونے میں پاکستان مخالف قوتیں اور حکمران برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہداء میلاد النبیﷺ کے وارث زندہ ہیں اس ملک کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں منگھوپیر ، شیر پائو کالونی سمیت دیگر علاقوں میں بھی فوجی آپریشن ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف امن و امان کے اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کو باہر نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس ملک میں بلٹ کی بجائے بیلٹ کی طاقت سے سنی اسٹیٹ بنانا ہوگا۔ مفتی عابد مبارک نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنمائوں کی جانب سے ممتاز قادری کو بھی پھانسی دینے کا بیان آیا ہے، جس کی ہم بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری کو پھانسی دینا تو دور کی بات ان پر کوئی بھی آنچ آئی تو پھر اس کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button