بلوچستان میں شیعہ نسل کشی اور سحر بتول کے قتل کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں اجلاس

شیعت نیوز : کوئٹہ میں شیعہ کمسن بچی سحر بتول جسے کالعدم تکفیری جماعت سپاہ صحابہ کے مینگل گروپ نے اغوا کرکے گلا کاٹ کر شہید کردیا تھا اور شیعہ نسل کشی کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں امام حسین کونسل کی کوشیوں سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ان واقعات کے حوالے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور واقعہ کی مذمت کی گئی۔ برطانوی پارلیمنٹ نے تو اس ظلم پر آواز بلند کرلی لیکن ہمارے ملک کی پارلیمنٹ تو دور اس ملک کی انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی اور ان نام پر پیسہ اکھٹا کرنے والی تنظیمں تاحال خاموش ہیں، کیونکہ شاید شہید ہونے والی بچی کا تعلق شیعہ مکتب ہے، اور شیعہ نسل کشی پر آواز اُ ٹھانے کو یہ سب فرقہ واریت تصور کرتے ہیں۔
واضع رہے کہ سحر بتول کو اغوا کرکے شہید کرنے والے سپاہ صحابہ کے دہشتگرد شہر بھر میں دندانتے پھر رہے ہیں، اسی طرح کراچی میں بھی عشرہ محرم کے دوران 9 ماہ کی بتول زہرہ بھی انہیں دہشتگردوں کی بربریت کا شکار بن چکی ہے۔ جبکہ گلگت میں 8 سال کا ایک شعہ بچہ بھی انہیں دہشتگردوں نے اغوا کے بعد قتل کیا۔ اس کے باوجود ان دہشتگردوں کو قابو کرنے والے سیکورٹی ادارے اور حکمران تمائشی بنے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔











