پاکستان

چلاس میں سانحہ کارساز کی یاد میں پی پی کا اجتماع، ’’گو مہدی شاہ گو‘‘ کے نعرے

گلگت کے ضلع دیامر میں پیپلز یوتھ آرگنائزیشن اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام صدیق اکبر چوک پر ایک عظیم الشان اجتماع سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گیا، جس میں کثیر تعداد میں پاکستان پیپلز پارٹی ضلع دیامر چلاس کے جیالوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن شریک تھے۔ چلاس کی فضاء جلسے سے آغاز سے اختتام تک "گو مہدی گو” کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔ سانحہ کارساز کی یاد میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی وائی او ضلع دیامر کے صدر نے نور محمد نے کہا کہ سانحہ کارساز میں بم دھماکے کے ذریعے دختر مشرق کو شہید کرنے کی کوشش کی گئی اور دشمن چاہتے تھے کہ پاکستان سے جمہوریت کی بساط ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لپیٹ لیا جائے، لیکن یہ ان کی بھول ہے کیوںکہ شہید بھٹو نے لاکھوں نظریاتی کارکن پیدا کیے ہیں جنہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سید مہدی شاہ جیالوں کے دشمن ہیں، انہوں نے اصل جیالوں کو نظرانداز کر کے اپنے چند دوستوں کو لے کر کراچی رفو چکر ہوگئے، جبکہ گلگت بلتستان سے ہزاروں جیالے کراچی جانے کے لیے تیار تھے۔ مہدی شاہ پارٹی اور جمہوریت کے دشمن ہیں، ان کے مزید پارٹی صدارت پر رہنے کی کوئی گنجائش نہیں، انکی وجہ سے پارٹی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہے۔ جلسے سے پی ایس ایف کے صدر اور دیگر رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہدی شاہ پارٹی قیادت سے فوری دستبردار ہو کر پی پی پی کو نجات دیں، انہوں نے کہا مہدی شاہ کے خلاف پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور دیامر میں مہدی شاہ کے خلاف وال چاکنگ مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button