پنجاب حکومت تکفیری ٹولے کی سرپرستی کر رہی ہے، د نیا بھر میں بسنے والے ہر مظلوم کی حمایت کرتے ہیں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

مجلس و حدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویثرن کی جانب سے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں ایم ڈبلیو ایم کے سر براہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ،ڈپٹی سیکر ٹری جنرل علامہ امین شہیدی،علامہ حسن صلاح الدین ، علامہ نثا ر قلندری علامہ جعفر رضا، علامہ نعیم الحسن ، علامہ حسن ہاشمی ، علامہ علی انور اور علی حسین نقوی ، انجینئر رضا نقوی ، علی احمر، آصف صفوی سمیت دیگر نے شرکت کی، جس میں پرنٹ اور الیکڑانکس میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ نماز مغربین مولانا حسن صلاح الدین کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ بعد ازاں تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن کو نہ پہنچانا توناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے مزید کہا کہ سوشلز م اور کیپلٹزم کے نظام ناکام ہوچکے ہیں۔ آج کنزیومر ازم کا دور ہے بچے کے بھوک اور رونا بھی کمرشل پراڈکٹ بن چکی ہیں۔ عالمی استکباری قوتیں دنیا میں شراور فساد پھیلار ہی اور تکفیری ٹولہ اسکتباری قوتوں کے پے رول پر کام کررہا ہے۔ اس کا ایک مرکز مصر، ایک مرکز سعودی عرب اور ایک مرکز پاکستان میں ہے یہ دوسرے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں ،القاعدہ، داعش، النصرۃ، لشکر جھنگوی اور جنداللہ ہیں ان عنوانات کے تحت پاکستان اور عالم اسلام میں مختلف مقامات سے جنگجوؤں کولاکر جمع کیا گیا ۔ افغانستان کے مقدس جہاد کو بھی یرغمال بنایا گیا اور اس کو تکفیریوں کے ہاتھوں میں ڈال دیا گیا ۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لیے سعودی عرب کے پیٹ میں سب سے زیادہ درد ہوا اور شام میں تیراسی ملکوں کے دہشت گرد لاکر جمع کیا گیا۔ عراق میں نوے فیصد اہلسنت کو تکفیریوں نے شہید کیا، لیکن سعودیہ کو اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی قیادت میں مقادمت اور شام کی حمایت پسند نہیں تھی اوردوہزار چھ میں حزب اللہ نے اسرائیل کو جب مار مار کر اس کے شانے سوجادیے تھے تو وہ خوف کے مارے اپنی حدود میں دیوار اٹھانے لگا اور نیل اور فرات تک قبضے کی باتیں بھول گیا یہ سب سعودی حکومت کی بنا پر ہوارہمارے ملک میں بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ دیر سے شروع کرائی ، نواز شریف کی حکومت نے اس سلسلے میں تاخیر کرکے قاتل کا کردار ادا کیا ، آج جو آپریشن شروع ہوا ہے وہ پورے ملک میں ہوناچاہیے صرف شمالی وزیرستان تک محدود رکھنا ملک کے ساتھ دشمنی ہوگی۔ ہم اس تکفیری گروہ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپریشن کراچی اور بلوچستان تک آپریشن ہونا چاہیے اور شہباز شریف ابن زیاد کی طرح ہے ۔ اس سال پنڈی میں جو ہوا اس میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی ایک شیعہ نے بھی کسی دکان کو آگ لگادی، اس میں دہشت گرد نہیں طالب علم ، سرکار افسر گرفتار کیے گئے، اسٹیٹ ورسز شیعہ مقدمہ لڑا گیا ، پنجاب حکومت کا جانبدارانہ کردار ہے، یہی کچھ ماڈل ٹاؤن سانحے میں ہوئے۔ وہاں پولیس نے قادری صاحب کے دروازے پر جو خواتین تھیں ان کے منہ میں گولیاں ماریں، یہ تکفیری ٹولے ہی سوچ ہے جو ماضی کی طرح سے دہشت گردی کررہے ہیں ، یہ پہلے بھی اسی طرح کرتے رہے، پنڈی کے سانحے میں سنی بھائیوں نے ہمارا ساتھ دیا، ہم نے ان سے وعدہ کیا ہم بھی آپ کا ساتھ دیں گے کیونکہ ہم نے وفا حضرت ابولفضل العباس سے سیکھی ہے ، ہم نے پہلے طاہرالقادری صاحب کے دس نکاتی ایجنڈے پر حمایت کے لیے سوچنے کا وقت مانگا تھا لیکن اب ہم ان کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں ، ہم تمام قاتلوں کے خلاف ہیں، حضرت امام حسین علیہ اور عبداللہ بن زبیر بھی یزید کے مخالف لیکن وجوہات الگ تھیں۔ جب چلاس کا واقعہ ہوا تھا تو ہم نے نو دن تک دھرنا دیا تھا اور کیانی صاحب کو کہا تھا کہ ہم ان قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم پاکستان میں مارے جانے والے ہر مظلوم کے ساتھ ہیں، جب کو مسجد میں مسلمان شیعہ یا سنی ہے، مندر میں ہندو چرچ میں عیسائی ہیں، لیکن جب باہر ہیں تو ہم پاکستانی ہیں۔ فلسطین میں ہر ساڑھے چار منٹ کے بعد حملہ ہورہا ہے، انشا اللہ اس سال یوم القدس مثالی ہوگا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں شرکت کرنا چاہیے تاکہ فلسطین کے مظلوموں سے بھرپور اظہار یکجہتی کی جاسکے۔








