کراچی دیو بندی مدارس میں موجود تکفیری دہشت گردوں سے ملکی اہم تنصیبات کو خطرہ

13 جون, 2014 12:18

DEYOBANDI6شیعت نیوز : شہر قائد میں جاری حالیہ ملت جعفریہ کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد اب کالعدم تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے معاشی حب کراچی میں موجود ملکی اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا خطرے میں مذید اضافہ ہوگیا ہے ،گزشتہ روز جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کالعدم تکفیری دہشگردوں کی جانب سے حملے کیا جس میں محب و طن سکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم جانوں کی دہشتگری کا نشانہ بنایا گیا اور واقع میں سکیورٹی اہلکاروں نے کامیاب آپریشن کر کے ان دہشتگردوں کے مغموم مقاصد کو ناکام بنا دیا یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایئر پورٹ جیسے حساس علاقے میں یہ دہشتگرد اتنی آزادی سے کیسے گھس گئے ۔اور کون ہیں یہ لوگ اور کہاں سے آئے ان کے پس پشت کون سی طاقتیں اس دہشگردی میں ملوث ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ یہ دہشتگرد غیر ملکی ہیں مگر ان کے پاس اس علاقے کی مکمل جان کاری موجود تھی اور ان دہشتگردوں نے منظم انداز سے کاروائی کی جسے پاک افواج ،رینجرز ،پولیس ،اور اے ایس ایف کے جوانوں نے ناکام بنا دیا اب ہم اگر اس حساس علاقے کا معائنہ کریں تو اس کی اطراف کی آبادیوں اور ان علاقوں میں بسنے والے افراد اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کا مشاہدہ کریں تو ہمارے سامنے اس واقع کی اصل حقیقت آجائے گی کہ کون ان ملک دشمن دہشتگرد وں کو بھاری اسلحہ فراہم کر تا ہے اور کون ان دہشتگردوں کو پال رہا ہے ائیر پورٹ سے متصل ماڈل کالونی ،ایوب گوٹھ گلستان جوہر اور عقب میں عمر کالونی،شاہ فیصل کالونی عظیم پورا،گرین ٹاؤن کے علاقے شامل ہیں جہاں دیو بندی مدارس کی بڑی تعداد موجود ہیں جن میں سر فہرست جامع فاروقیہ ،جامعہ حمادیہ،مدرسہ معاویہ،مدرسہ عمر بن خطاب،مدرسہ العربیہ،جامع الشرفیہ ،مدرسہ الخیر،مدرسہ ابو سفیان ،مدرسہ صدیقہ عائشہ ،مدرسہ صدیقیہ سمیت دیگر مدارس شامل ہیں اور ان میں کچھ شہر قائد کے بڑے دیو بندی مراکز کہلائے جاتے ہیں اور ان مدارس میں غیر ملکی طلبہ بھی مقیم ہیں واضح رہے کہ ان تمام مدارس کی سر پرستی جامع بنوریہ العالمی کے ہاتھوں ہے اور ان مدارس کئی نامی گرامی دہشتگرد بھی تعلیم حاصل کرچکے ہیں جو افغانستان جہاد،شیئرٹن ہوٹل حملہ،فرانس انجینئر نگ ٹیم پر حملے ،امریکن کونصلیٹ حملے ،پی ایس اور بلڈنگ ،ایف آئی اے بلڈنگ،پولیس ہیڈ کواٹر حملہ ،بینظیر کے قافلے پر حملے ،سندھ مدرسہ مسجد حیدری ،مسجد علی رضاحملہ ،سانحہ نشتر پارک ، سانحہ عاشورہ و اربعین، عبد اللہ شاہ غازی کے مزار پر حملہ ،سانحہ عباس ٹاؤس سمیت دہشتگری کے واقعات شامل ہیں اسی طرح کراچی شہر میں ہونے والی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں انہی دیو بندی مدارس میں موجود تکفیری طلبہ ملوث رہے ہیں اور ان دہشتگردوں کے ہاتھوں سنی تحریک کے بانی سلیم قادری ،تحریک جعفریہ کے حسن ترابی،جمیعت علمائے پاکستان کے رہنماء مفتی جان محمد نعیمی ،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماء سعید حیدر،مجلس و حدت مسلمین کے رہنماء علامہ آفتاب حیدر ،علامہ دیدار جلبانی،معرف ماہر تعلیم و شاعر پروفیسر سبط جعفر،پروفیسر تقی ہادی،اہلسنت ماہر تعلیم ا ظفر رضوی سمیت کئی پروفیسرز،ڈاکٹرز،وکلاء،علماء واکابرین،سمیت تاجروں اور اہم سکیورٹی اداروں میں موجود افسران و اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔مگر افسوس کے دہشتگردی ان تمام واقعات کے با وجود حکومت ان دہشتگردوں کے خلاف کاروائی نہیں کرتی اور حالیہ ایئر پورٹ واقعات میں ملوث ملیر ماڈل کالونی کے مدرسہ میں پناہ لئے ہوئے تکفیری نظریات کے پروردہ دہشتگردوں نے پہلے ایئر پورٹ کے علاقے کی مکمل ریکی کی اور گزشتہ کئی ماہ سے ا ن مدارس میں تعلیم حاصل کررہے تھے اور ایئر پورٹ حملے کی پلانگ انہی د یو بندی مدارس میں موجود تکفیری دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی، اُس کے بعد ان ملک دشمن اسلام دشمن تکفیری دہشتگردوں نے اپنی کاروائی کی ۔

11:09 صبح جون 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔