حکومت ائر پورٹ اور تفتان سانحہ کے حقائق قوم کو بتائے,ساجد نقوی

13 جون, 2014 10:30

sajid pcحکومت کو بتانا چاہیے کہ ان واقعات میں کون سے عناصر ملوث ہیں، انہیں کہاں تربیت دی جاتی ہے اور ان کی پشت پناہی کون کررہا ہے

عمران خان اور طاہر القادری اگر جمہوری انداز میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں روکنا نہیں چاہیے، حیدر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  قائد تحریک جعفریہ اور شیعہ علما کونسل کے سربراہ علامہ ساجد نقوی نے کہا ہے کہ کراچی ائر پورٹ پر حملہ اور تفتان میں زائرین کے قتل کے واقعات کے حقائق سے عوام کو آگاہ کیا جائے، عمران خان اور طاہر القادری اگر جمہوری انداز میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں روکنا نہیں چاہیے، وہ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ کراچی ائر پورٹ پر حملہ اور تفتان میں زائرین کا قتل عام بہت بڑے سانحات ہیں، حکومت کو چاہیے کہ کراچی اور تفتان سانحات کی روشنی میں ٹھوس اقدامات کرے تاکہ کوئی نتیجہ سامنے آسکے مگر حکومت ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عوام کو حقائق بتانے کے لئے تیار نہیں ،حکومت کو بتانا چاہیے کہ ملک میں ہونے والے واقعات میں کون سے عناصر ملوث ہیں، انہیں کہاں تربیت دی جاتی ہے اور ان کی پشت پناہی کون کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں بلکہ بعض عناصر کی پشت پناہی کی جارہی ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور دہشت گردوں کے پشت پناہوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ پاکستان کی فضا بہتر ہوسکے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے مابین کوئی مذاکرات نہیں ہورہے اور نہ ہی آئندہ مذاکرات کی کوئی امید نظر آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ عراق، شام اور افغانستان جیسے حالات پاکستان میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے دینی جماعتوں کے اتحاد نے ناکام بنادیا ہے اور ان ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا ماحول بہت بہتر ہے، علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور طاہر القادری جمہوری انداز میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں روکنا نہیں چاہیے کیونکہ تمام سیاست دانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کے تحت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کریں، ایک سوال کے جواب میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ طاہر القادری کو ملک میں آکر انقلاب کی باتیں کرنی چاہئیں، انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کو فعال کرنے کی بہت کوششیں ہوچکی ہیں لیکن وہ اب بھی ناامید نہیں ہیں، کوشش ہے کہ متحدہ مجلس عمل دوبارہ فعال ہوجائے اور سیاسی میدان میں وہی کردار ادا کرے جو اس نے ماضی میں کیا تھا، انہوں نے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے حکومت کے کوئی ٹھوس نوعیت کے اقدامات نظر نہیں آرہے، موجودہ بجٹ بھی سابقہ بجٹ کا تسلسل ہے، اس بجٹ میں بھی غریب عوام کے ریلیف کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی اور پروگرام سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ کہا جاسکے کہ ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔

9:51 صبح جون 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔