نئے سال کو سعودی ایجنٹوں اور تکفیری ٹولے سے نجات کا سال بنادیں

01 جنوری, 2014 11:22

ttp pakistanآج جب سال کا پہلا دن ہے تو صبح سویرے اخبارات کی شہ سرخی ہمیں بتارہی ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے جمعیت العلمائے اسلام کے امیر مولانا سمیع الحق کو فون کیا اور ان سے ملنے کی خواہش کی
مولانا سمیع الحق وزیراعظم پاکستان کی خواہش پر ان سے ملے تو وزیراعظم نواز شریف نے ان سے کہا کہ وہ ان کی جانب طالبان سے ملیں اور ان کو مذاکرات کی میز پر لیکر آئیں
مولانا سمیع الحق کے ترجمان احمد شاہ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مولانا سمیع الحق کو میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ ان کا ایجنڈا اپنے سے پیش رو حکومت سے مختلف ہے اور وہ طالبان سے ہر صورت مذاکرات کے حامی ہیں
نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں جب بھی پیش رفت ہونے لگتی ہے تو بیرونی قوتیں کھیل خراب کردیتی ہیں اور یہ پرائی جنگ ہے جس میں اب ہم شامل رہنا نہیں چاہتے
میاں محمد نواز شریف دو مرتبہ اس ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور وہ تیسری مرتبہ اس منصب پر فائض ہوئے ہیں اس لیے ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ ان کو ملک کے قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے ملک کی داخلی صورت حال بارے بریفنگ نہیں ملی ہوگی –اس لیے میاں محمد نواز شریف کا مولانا سمیع الحق کو یہ کہنا کہ یہ پرائی جنگ ہے افسوس ناک بات ہے اور یہ ایک طرح سے منور حسن امیر جماعت اسلامی کے بیان کی تائید بھی ہے جو فوج ،پولیس اور عوام کی تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں شہادتوں کو شہادت کہنے سے گریزاں ہیں اور حکیم اللہ محسود کو شہید کہتے ہیں
میاں محمد نواز شریف،میاں اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ایک طرف تو قومی سلامتی کی کمیٹی کے یکے بعد دیگرے دو اجلاسوں میں شرکت کے بعد قوم کو یہ بتلاتے ہیں کہ دھشت گردوں کے عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر حملے قابل برداشت نہیں ہیں اور دھشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے قانون سازی کو تیز کیا جارہا ہے تو دوسری جانب وہ مولانا سمیع الحق،مولانا فضل الرحمان ،کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان کے زریعے تکفیری دھشتگردوں سے رابطے کی سبیل نکالتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ دھشت گردوں کے خلاف فوج،پولیس ،خفیہ ایجنسیوں اور عام شہریوں کی جدوجہد اور لڑائی پرائی جنگ ہے
ان کے برادر چیف منسٹر پنجاب اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ لشکر جھنگوی،جنودالحفصہ المعروف پنجابی طالبان اور کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں اور طالبان سے پنجاب کے اندر کاروائیاں نہ کرنے کی ضمانت طلب کرکے ان کو پنجاب میں اپنے ٹھکانے بنانے کی اجازت دیتے ہیں
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ایک طرف تو کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ تکفیری دیوبندی مولویوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور شمالی وزیرستان کے اندر آپریشن نہ کرنے کی یقین دھانی بھی کراتے ہیں
ہم سال نو کے آغاز پر ملک کے منتخب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ،پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے چیف منسٹر شہباز شریف اور صوبائی وزیرقانون کے دیوبندی تکفیری دھشتگردوں سے تعلقات اور ان سے پینگیں بڑھائے جانے پر چند سوالات ضرور اٹھانا چاہتے ہیں
کیا اس ملک کے مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے اہل سنت بریلوی،اہل تشیع جو کہ پاکستان کی کل مسلم آبادی کا 85 فی صد بنتے ہیں کسی توجہ کے لائق نہیں ہیں؟
کیا اس ملک کی مسلح افواج،پولیس ،خفیہ ایجنسیاں اور مقامی انتظامیہ جو تحریک طالبان سمیت تکفیری دیوبندی خارجی دھشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں ان کی رائے اور بے چینی کی کوئی وقعت نہیں ہے؟
کیا پاکستان کے وہ 50 ہزار سے زائد خاندان جن کے پیارے دیوبندی خارجی تکفیری دھشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ان کی رائے اور تحفظات کی کوئی وقعت نہیں ہے؟
کیا اس ملک کے عیسائی،احمدی،ہندؤ کوئی اہمیت نہیں رکھتے کہ ان سے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے یا نہ کرنے بابت پوچھا جاتا؟
ان سب مذھبی و سماجی حلقوں کی رائے کو ایک طرف رکھکر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے ساتھی ان مذھبی لیڈروں کو اہمیت دے رہے ہیں جو ایک طرف تو پاکستان کے آئین اور ریاست سے بغاوت کرنے والوں اور 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو شہید کرنے والوں کی حمائت کرتے ہیں تو دوسری طرف اس ملک کی مذھبی اور نسلی اقلیتوں کی مذھبی آزادیوں کو غصب کرنے والوں کے اعمال بد پر پردہ ڈالتے ہیں
یہ وہ لیڈر ہیں جن کی پارلیمانی قوت نہ ہونے کے برابر ہے اور پاکستان کے اندر کالعدم دھشت گرد خارجی تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے مسلح گروپوں کے سب سے بڑے محافظ ہیں
یہ مذھبی لیڈر وہ ہیں جو اس ملک کی سلامتی اور اس ملک کی عوام کی یک جہتی کو اس لیے نقصان پہنچانے میں سرگرم ہیں اور یہ سب سعودی عرب کے اشارے پر کررہے ہیں
میاں محمد نواز شریف جب اس ملک کے انتظامی سربراہ ہوتے ہوئے اس ملک کی اکثریت اور اس ملک کی مذھبی و نسلی اقلیتوں کے احساسات اور خیالات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دیوبندی تکفیری خارجی ٹولے کے ساتھ چلتے ہیں اور ان کی رائے کو مقدم خیال کرتے ہیں تو ان کے بارے میں یہ بات کہنا ٹھیک لگتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کالعدم تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کا سیاسی چہرہ ہے
ہمیں حامد میر اور ان کی طرح کے ان سب تجزیہ نگاروں پر حیرت ہے جو مسلم لیگ نواز کی قیادت کے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے تعلقات کی کہانیاں منظر عام پر آنے کے بعد ان کے وکیل صفائی بن جاتے ہیں اور ٹھوس حقیقت کو سراب بتلانے لگتے ہیں
پاکستان میں دیوبندی تکفیری خارجی ٹولے اور اس کے حامیوں کی طرف موجودہ حکومت کا جھکاؤ ناقابل تردید حقیقت ہے اور یہ جھکاؤ پاکستان کے شیعہ،بریلوی،احمدی،ہندؤ،عیسائی،اعتدال پسند دیوبندی ،معتدل اہل حدیث ،سیکولر لبرل دانشور،شاعر،ادیب ،سماجی ورکروں،فوج،پولیس،سول ایڈمنسٹریشن کے اہلکاروں کی قیمت پر رکھا جارہا ہے
اس جھکاؤ کے خلاف مذکورہ بالا تمام گروپوں اور برادریوں کو منظم ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دھشت گردوں کے سیاسی چہرے والی مسلم لیگ نواز کی حکومت کو ظالمان سے مذاکرات کی بجائے ان کے خلاف بھرپور کاروائی پر مجبور کیا جاسکے اور اگر ایسا کرنے سے انکار کرے تو پھر اس کو گھر بھیجنے کے لیے تحریک چلائی جائے
وقت کی اشد ضرورت ہے کہ اس ملک کے شیعہ،بریلوی،احمدی،ہندؤ،عیسائی ،سیکولر لبرل طبقات اپنا سیاسی وزن ثابت کریں اور نئے سال کے آغاز سے ہی مجلس وحدت المسلمین،سنّی اتحاد کونسل،تحریک نفاز فقہ جعفریہ،پاکستان سنّی تحریک،شیعہ علماء کونسل،جماعت اہل سنت پاکستان کو چاہئیے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور جیسے تکفیری خارجی نام نہاد جہادی دھشت گرد ٹولے کے حامیوں نے دفاع اسلام کونسل بنائی ہے ان کو پاکستان بچاؤ الائنس بنانا چاہئیے اور اس میں مذھبی و نسلی اقلیتوں کی نمائندہ تنظیموں کو بھی شامل کرنا چاہئیے
ایسا اتحاد اگر وجود میں آتا ہے تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی،عوامی نیشنل پارٹی ،ایم کیو ایم اور لیفٹ کے دیگر گروپوں کو بھی دیوبندی تکفیری طالبانی ٹولے کے خلاف تعاون پر آمادہ کرسکتا ہے
آج راجہ ناصر عباس،امین شہیدی،صاجزادہ حامد رضا،صاحبزادہ مظہر سعید کاظمی،علامہ ثروت قادری،علاقہ سید ساجد نقوی،علامہ سید حامد علی موسوی کو اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع ایک پلیٹ فارم پر دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں
وہ علمائے اہل تشیع و اہل سنت بریلوی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ مل کر کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے اہل سنت والجماعت کے نام سے بنے تمام دفاتر کو سیل کرنے اور ان کے تحت چلنے والے مدارس کو اوقاف کی تحویل میں لیکر ان کی انتظامیہ کو برطرف کرنے اور اس تنظیم کے انتہا پسند لیڈروں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک منظم کریں گے
پاکستان میں تکفیری خارجی ٹولے کے دھشت گرد اور انتہا پسند سیاسی بیانیہ کے مقابلے میں صلح کل اور اعتدال پسند بیانیہ اگر عزت پاسکتا ہے تو اسی طریقے سے جس کا اوپر بیان ہوا ہے
سعودیہ عرب پاکستان کو دوسرا عراق،شام،لبنان بنانے کی سازش کرچکا ہے اور وہ مذھبی بنیادوں پر سول وار کراکر اس ملک سے شیعہ اور اہل سنت بریلوی اور غیر مسلم اقلیتوں کا قلع قمع چاہتا ہے
اس ملک کے سواد اعظم اہل سنت و اہل تشیع ،غیرمسلم اقلیتوں اور سیکولر لبرل سیاسی رہنماؤں کو اس سازش کا ادراک کرنا چاہئیے
بلکہ ہم خیال کرتے ہیں کہ کسی حد تک اس سازش کا ادراک اہل سنت اور اہل تشیع کی نمائندہ قیادت کو ہوچکا ہے-بس اب اس سازش کو ناکام بنانے کا ٹھوس لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے
ہم پاکستان عوامی تحریک کے قائد جناب ڈاکٹر طاہر القادری سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگردیوبندی خارجی تکفیری ٹولے کے عزائم کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں اور عوام و افواج پاکستان کو اگر بچانے کی خواہش رکھتے ہیں تو ان کو بھی اہل تشیع و اہل سنت بریلوی رہنماؤں کے شانہ بشانہ چلنا چاہئیے-تبھی عوام کو دھشت گردی اور مہنگائی سے بچایا جاسکے گا
5 جنوری کو اسلام آباد میں مجلس وحدت المسلمین اور سنی اتحاد کونسل ک اجتماع نیک شگون ہے-حامد رضا،راجہ ناصر عباس اور فیصل رضا عابدی مل کر پاکستان میں سعودی عرب کے ایجنٹوں کو شکست دینے کے لیے ایک منظم تحریک چلانے کی پوری پوریصلاحیت رکھتے ہیں
نئے سال کو سعودی عرب کے ایجنٹوں اور تکفیری خارجی ٹولے کی شکست اور پاکستان میں امن کی آشا کے پورا ہونے کا سال بنانے کا وقت آن پہنچا ہے

2:47 شام اپریل 7, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔