ایران کو سلام ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، حافظ نعیم الرحمن
شیعیت نیوز : جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کراچی میں بڑی سرمایہ کاری آنے کا امکان ہے لیکن پیپلز پارٹی کی موجودگی میں کراچی میں کبھی ڈویلپمنٹ نہیں ہو سکتی۔
وقت آ گیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے جان چھڑائی جائے۔ امریکیوں کو سوچنا چاہیے کہ ایک پاگل کیسے ان کا صدر ہے۔ عوام پیٹرول کے ہر لیٹر پر حکومت کو 225 روپے اضافی ادا کر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید کم کی جائیں۔ بجلی پر ٹیکس لگانے کا کہا جا رہا ہے، اس پر ہم احتجاج کریں گے۔ آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے چاہییں۔
اداره نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو تباہ کرنا بین الاقوامی ایجنڈا تھا۔ جب ہمارا شہر تباہ کیا جا رہا تھا تو کوئی اور شہر ڈویلپ ہو رہا تھا۔ دو روز قبل کراچی میں 38 ملی میٹر کی بارش نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایکسپوز کر دیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ کے ایم سی میں قبضہ میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کو تیز کیا جائے گا۔ کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے پورا شہر ٹوٹ پھوٹ اور بدحالی کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گڈ مارننگ تل ابیب: ایرانی کلسٹر میزائلوں کی صبح سویرے اسرائیل پر بارش!
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جن قوتوں نے پیپلز پارٹی کو مسلط کیا ہوا ہے ان سے کہوں گا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور عدم اعتماد کا عمل سیاسی طور پر مکمل ہونے دیں کیونکہ پوری قوم کا نقصان ہو رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو کہوں گا کہ وہ اب اپنا پھیلایا ہوا گند صاف کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور ایران کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کے ساتھ آزادانہ تجارت کرنی چاہیے، گیس پائپ لائن منصوبہ بھی مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اب گالیاں دے رہا ہے اور پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ آدھے سے زیادہ امریکی عوام یہ کہہ رہی ہے کہ یہ پاگل ہے، تو ایسے شخص کو کیسے صدر کی عہدے پر رکھا ہوا ہے؟ اقوام متحدہ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایران کو سلام ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، پاکستان کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب فلسطینیوں کو پھانسیاں دے گا، اس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اچھا قدم اٹھاتی ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موقع ہے کہ ہمیں غزہ پیس بورڈ سے باہر آنا چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں کونسی انڈسٹری ہے جو سامنے آ کر کھڑی ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ 38 ہزار ڈالرز پاکستانیوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید کم کی جائیں، بجلی پر ٹیکس لگانے کا کہا جا رہا ہے، اس پر ہم احتجاج کریں گے۔







