پاکستان

تکفیری ٹولہ اسلام کا نام بدنام کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے، علامہ حسن ظفر نقوی

hassan zaffarشیعیت نیوز کے نمائندے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ چودہ سو سالوں سے یزیدیوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح عزاداری کو ختم کیا جاسکے، لیکن شیعیان علی (ع) نے کبھی ہاتھ کٹا کر تو کبھی اپنی قربانی دے کر عزاداری کو بچایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں چنیوٹ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کراچی کے عزادارانِ امام حسین (ع) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عزاداروں نے جناب حضرت عباس علمدار (ع) کی سنت پر عمل کرتے ہوئے نہ علم کو جھکنے دیا اور نہ ہی جلوس چھوڑ کر بھاگے۔ بلکہ ہر حال میں جلوس کو اپنی منزل مقصود پر پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی یہ بھول ہے کہ وہ ہمیں شہید کرے گا اور یہ سلسلہ عزاداری رک جائے گا۔ امام علی (ع) کا شیعہ مشکلات کے وقت ثابت قدم رہتا ہے اور ثابت قدمی ہی کامیابی اور کامرانی کا راستہ ہے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ منبر و محراب سے کسی بھی مسلمان بھائی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے، بلکہ وحدت کی فضاء کو پروان چڑھنا چاہیے۔

انہوں نے صبر کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب میدان کو چھوڑ کر بھاگنا نہیں بلکہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہی اصل صبر ہے۔ ایک تکفیری ٹولہ ہے جو اسلام کا نام بدنام کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلاء4 کا مطلب وقت کے یزید کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ لہٰذا ہم سب ملکر وقت کے یزیدوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور عزاداری کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شہید مختار بہت قیمتی انسان تھے، لیکن وہ امام حسین (ع) کے بیٹے شہزادے علی اکبر (ع) سے قیمتی نہیں تھے۔ لہذا لواحقین کو اس پر فخر ہونا چاہے کہ وہ امام مظلوم (ع) کے مشن کی سربلندی کے لئے شہید ہوئے ہیں۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے جلوس پر فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے عزاداروں کی عیادت بھی کی اور ان کی شفاء یابی کے لئے دعا کی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button