پاکستان

سانحہ چلاس، مظلوم شہداء کے چہلم کے اجتماع میں منظور کی گئی قراردادیں

gilgi chelum یہ عظیم اجتماع سانحہ کوہستان اور چلاس کے معاملے میں حکومتی اداروں کی بے حسی، بے بسی، دہشتگردوں کی حمایت اور لاقانونیت کی طرفداری کی بھرپور مذمت کرتا ہے، نیز سانحہ 88 سے اب تک کے تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان تمام دہشتگردانہ کارروائیوں کے مجرمین کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے۔
 مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام یادگار شہداء سکردو پر شہداء سانحہ چلاس کے مظلوم شہداء کے چہلم کی مناسبت سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلتستان بھر سے علماء کرام اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کیے۔ جس میں علاقہ شگر، علاقہ کھرمنگ، علاقہ خپلو، حسین آباد، گول، گمبہ سکردو، کواردو، قمراو، کچورا، بشو، روندو کے علاوہ سدپارہ شامل ہیں۔ کانفرنس میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کے علاوہ، علامہ حافظ حسین نوری، شیخ زاہدیِ، شیخ مصطفٰی، آغا علی رضوی، آغا مظاہر موسوی اور ڈویژنل صدر آئی ایس او سید اعجاز موسوی نے خطاب کیا، پروگرام کے اختتام پر مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔

1۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے منعقد ہونے والا یہ عظیم اجتماع راہ حق کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور حق کی خاطر شہیدوں کے راستے پر چلنے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنے کے عزم کا اعلان کرتا ہے۔

2۔ علماء، زعماء، طلباء، جوانوں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی عوام کا یہ عظیم اجتماع اسلام اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتا ہے۔

3۔ یہ عظیم اجتماع سانحہ کوہستان اور چلاس کے معاملے میں حکومتی اداروں کی بے حسی، بے بسی، دہشتگردوں کی حمایت اور لاقانونیت کی طرفداری کی بھرپور مذمت کرتا ہے، نیز سانحہ 88 سے اب تک کے تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان تمام دہشتگردانہ کارروائیوں کے مجرمین کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے۔

4۔ یہ بے نظیر اجتماع سانحہ کوہستان اور چلاس کے حوالے سے سکردو میں منعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کی قراردادوں نیز انجمن امامیہ بلتستان اور دیگر تنظیموں کی قراردادوں اور مطالبات کی بھرپور حمایت اور ان پر فوری عمل درآمدپر زور دیتا ہے۔

5۔ یہ عظیم اجتماع وحدت مسلمین، وحدت مومنین اور پرامن بقائے باہمی کی حمایت کا اعلان کرتا ہے اور پانچویں صوبے کو سبوتاژ کرنے کی ہر سازش کا بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کرتا ہے۔

6۔ یہ اجتماع علاقے میں دہشتگردی، انارکی، لاقانونیت اور مذہبی نفرت پھیلانے والے مرکزی کرداروں کو بے نقاب کرنے اور ان کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ کرتا ہے۔

7۔ ہم تحفظات اور مظلومیت کے باوجود ضابطہ اخلاق کو قبول کرنے پر حجۃالاسلام والمسلمین آقائے سید راحت حسین الحسینی کی فراخ دلانہ اور حکیمانہ حکمت عملی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ضابطہ اخلاق کو ٹھکرانے والوں کے خطرناک عزائم سے پردہ اٹھنے کے باوجود حکومت کی جانبدارانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو دلیرانہ اقدامات کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔
8۔ ہم شیعہ کشی کے مسلسل واقعات کے باوجود گلگت بلتستان کو خانہ جنگی سے بچانے پر شیعہ علماء اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

9۔ ہم ضابطہ اخلاق پر دستخط کے بعد بھی امامیہ جامع مسجد گلگت کی تالہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے حکومت کی شیعہ دشمنی کا واضح ثبوت سمجھتے ہیں۔

10۔ پاکستان میں قیام امن اور اتحاد بین المسلمین کی ہر کوشش کی حمایت کرنے والی تنظیم انجمن امامیہ گلگت پر پابندی لگانے اور علاقے میں آشکارا طور پر مذہبی شدت پسندی اور دہشتگردی میں ملوث تنظیم کو آزاد چھوڑنے پر حکومت وقت کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور اس کو امن دشمنی اور دہشتگردی کی کھلی حمایت سمجھتے ہیں۔

11۔ ہم گلگت بلتستان کو آئینی طور پر باقاعدہ ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی لیت ولعل کو یہاں کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

12۔ ہم اسلام آباد میں وفاق اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماؤں کے درمیان طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر کو علاقے کے عوام کی حق تلفی سمجھتے ہیں اور اس پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔

13۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ 1948ء میں بچھڑے ہوئے خاندانوں کو نزدیک ترین بارڈر کرگل سے رفت و آمد اور ملنے کی سہولت ملنی چاہئے، جس طرح سندھ، لاہور، مظفرآباد میں میسر ہیں، لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر کرگل بارڈر کو کھولنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔

14۔ چلاس اور کوہستان کی طرح گلگت بلتستان کو بھی اسلحہ فری زون قرار دیا جائے یا پورے علاقے کو اسلحے سے پاک کیا جائے اور ریاست کے اندر ریاست پر مبنی دہشتگردوں کو مسلح رکھنے اور امن پسند شہریوں کو نہتے رکھنے کی ریاستی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

15۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سکردو شغرتھنگ سے مظفرآباد تک کے متبادل راستے کو فوری طور پر بنانے کے لئے اقدامات کرے۔

16۔ سانحہ چلاس کے شہداء اور شہید جوہر علی شگری کے خاندانوں کو ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا جبکہ کوہستان کے متاثرین کے گھر والوں کو پچیس لاکھ کے ساتھ ملازمت دی گئی ہے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے شہداء کے خاندانوں کے لئے بھی مساوی مراعات دی جائیں۔

17۔ یہ اجتماع سانحہ گیاری میں پاک افواج کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button