پاکستان

پاراچنار – ایک بار پھر؛ "اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین قیام امن کا معاہدہ”

shiitenews parachinar newکرم ایجنسی میں ایک بار پھر "اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین قیام امن کا معاہدہ” ہوگیا ہے جس کے تحت بیدخل خاندانوں کو دوبارہ آبادکاری کی اجازت دی گئی ہے۔ / یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ: کیا اہل سنت کو اس معاہدے کے تحفظ کا اختیار مل چکا ہے یا اس معاہدے کا انجام بھی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
  کرم ایجنسی کے شیعہ اور سنی قبائل نے مری معاہدے کے تحت علاقے میں قیام امن اور ٹل پارا چنار شاہراہ سمیت تمام راستے کھولنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

اس معاہدے کے مطابق اہل تشیع اور اہل سنت مل کر شرپسند عناصر کے خلاف اقدامات کریں گے اور علاقے سے ان کا اثر و رسوخ ختم کرکے کرم ایجنسی کو شرپسندوں سے پاک کیا جائے گا اور کسی مسئلے یا تصادم کی صورت میں جرگہ تصفیہ کروائے گا؛ اور بیدخل افراد کی آبادکاری کیلئے فوج کی خدمات حاصل کی جائیں گی، ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہو گی۔
 پاراچنار سے اسلام ٹائمز کے ذرائع کے مطابق اتوار کے روز گورنر کاٹیج پاراچنار میں ہونے والے گرینڈ قبائلی جرگے کے سربراہ ملک وارث خان آفریدی، پولیٹیکل ایجنٹ کرم ایجنسی شہاب علی شاہ، ممبر قومی اسمبلی ساجد حسین طوری، طوری بنگش قبائل کے سربراہ حاجی حامد حسین طوری، اہلسنت کے عمائدین عطاءاللہ، حاجی ہاشم، منیر بنگش اور دیگر نے بتایا کہ آج کرم ایجنسی کے عوام کیلئے خوشی کا دن ہے کہ علاقے میں قیام امن کے سلسلے میں اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین شرپسندوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنے پر اتفاق طے پا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کرم ایجنسی میں بیدخل افراد کی دوبارہ بحالی اور ٹل پاراچنار روڈ سمیت آمد و رفت کے تمام راستے کھولنے کیلئے اہل تشیع اور اہلسنت، حکومت اور گرینڈ قبائلی جرگے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور اس سلسلے میں پاراچنار اور صدہ میں کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔
یہ کمیٹیاں اور قبائلی مشیران حکومت اور گرینڈ قبائلی جرگے کے ساتھ مل کر ایک طریقہ کار کے تحت بیدخل خاندانوں کو دوبارہ آباد کرینگی اور مری امن معاہدے کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا۔
گرینڈ قبائلی جرگے کے سربراہ ملک وارث خان آفریدی اور پولیٹیکل ایجنٹ کرم شہاب علی شاہ نے بتایا کہ گرینڈ قبائلی جرگے کو اہل تشیع اور اہلسنت کے 50،50 ارکان اور کمیٹیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور انشاءاللہ کرم ایجنسی میں بہت جلد امن قائم ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ کرم ایجنسی میں بےدخل افراد کی دوبارہ بحالی اور آمدورفت کے راستے کھولنے کیلئے آرمی کو طلب کر لیا گیا ہے اور بہت جلد کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں آرمی کو تعینات کیا جائیگا اور اس سلسلے میں کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے اندر اندر کرم ایجنسی میں آمدورفت کے راستے کھول دیئے جائیں گے اور بے دخل خاندانوں کی دوبارہ بحالی کا کام شروع کیا جائیگا اور کرم ایجنسی ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن جائیگی۔
انہوں نے بتایا کہ کرم ایجنسی میں قیام امن کی خاطر اہل تشیع اور اہلسنت کے تعاون سے ہر قسم کے اسلحہ نمائش پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کرم ایجنسی میں کسی کو اب امن وامان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام تنازعات کو جرگوں اور مری امن معاہدے کے مطابق حل کئے جائیں گے۔

خدشات:
پہلا خدشہ:
شیعہ اور سنی قبائل نے ایک بار پھر اس نئی پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے لیکن بات در اصل یہ ہے کہ پاراچنار میں جاری لڑائی کا کبھی بھی نہ شیعہ عوام کو کوئی فائدہ پہنچا ہے اور نہ ہی سنی عوام کو اور نہ ہی یہ شیعہ عوام کی جنگ تھی اور نہ ہی سنی عوام کی بلکہ یہ جنگ دوسروں کی ہے چنانچہ اس علاقے کا امن بھی علاقے کے عوام کے ہاتھ میں نہیں ہے کیونکہ یہاں جن قوتوں کے مفادات کی جنگ ہورہی ہے ان قوتوں کا فیصلہ کیا ہے؟ اہم بات یہی ہے۔ کیا وہ اس بار امن کی بقاء میں خلل نہیں ڈالیں گے؟
اس معاہدے میں شیعہ اور سنی عوام کی جانب سے حکومت اور گرینڈ جرگے کے ساتھ تعاون کی ضمانت کی بات ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ پرو پاکستانی طالبان اور پرو نیٹو طالبان کیا اس معاہدے کو بحال رہنے دیں گے؟
یادرہے کہ طالبان کے متعدد ٹولے ہیں اور ہر ٹولہ کسی ایک ملک سے وابستہ ہے اور چونکہ افغانستان پر قابض بیرونی قوتیں پاراچنار میں امن کے قیام سے خطرہ محسوس کرتی ہیں چنانچہ یہ امکان پوری قوت کے ساتھ موجود ہے کہ امریکہ اور نیٹو سے وابستہ طالبان ایک بار پھر سڑک پر رہزنی کرکے اس معاہدے کو سبوتاژ کریں اور کرم کا ممکنہ امن ایک بار پھر غارت ہوجائے۔
دوسرا خدشہ:
دوسری بات یہ ہے کہ کرم ایجنسی سنی اور شیعہ قبائل کا مشترکہ گھر ہے اور دونوں فریق سینکڑوں برسوں سے اس سرزمین پر مل کر رہ رہے ہیں اور جب بھی کوئی تیسرا فریق ـ افغان مجاہدین، عرب دہشت گردوں یا طالبان کی صورت میں ـ اس علاقے میں مداخلت کرنے آیا ہے علاقے کا امن نیست و نابود ہوگیا ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ تیسرا فریق اپنا مفاد پھر بھی جنگ میں نہيں ڈھونڈے گا اور اس معاہدے کو پامال نہیں کرے گا؟ اور کیا امن کا نیا معاہدہ بھی چند ہی روز کا مہمان بن کر رخصت نہیں ہوجائے گآ۔
تیسرا خدشہ:
اس معاہدے میں فوج کا کوئی کردار نہیں دکھايا گیا ہے جبکہ حقانی نیٹ ورک کا مسئلہ اپنی جگہ باقی ہے اور اس نیٹ ورک کو اب تک علاقے کے عوام پر ترجیح دی جاتی رہی ہے؛ سوال یہ ہے کہ فوج نے واقعی اس نیٹ ورک کی حمایت کرنا چھوڑ دی ہے اور اب یہ نیٹ ورک علاقے پر حملے نہیں کرے گا اور اس علاقے سے افغانستان میں گھسنے کے بہانے علاقے میں خون خرابے کا بازار گرم نہيں کرے گا؟ فوج کے چیک پوسٹوں کے قیام کا انجام بھی واضح نہیں ہے اور معلوم نہیں ہے کہ ان پوسٹوں کا فائدہ کس کو ملے گا؛ علاقے کے عوام کو یا باہر سے آنے والے دہشت گردوں کو جو عرصے سے اس علاقے میں اپنے اڈے قائم کرنے کے درپے ہیں۔
بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقے کے شیعہ اور سنی عوام اس معاہدے کا استقبال کرتے ہيں اور انہیں اس امن کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان کے مختلف گروہوں کی موجودگی کا بھی انکار نہيں کیا جاسکتا جنہوں نے دین اور مذہب اور وحشیانہ سزاؤں کے ذریعے اس علاقے پر بھی اپنا تسلط قائم کررکھا ہے اور اگر ان دو فریقوں کو امن عزیز ہے تو اب انہیں واقعی مل کر ان گروہوں کو علاقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی لیکن اس کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ علاقے کے لوگ دوسرے علاقے سے آنے والے دہشت گردوں کی ہمدردی پر مزيد اعتماد نہ کرتے ہوئے اعتماد باہمی کے ذریعے علاقے میں امن قائم کرنے کا عزم کریں ورنہ اس سرزمین پر دوسروں کے مفادات کی یہ جنگ جاری رہے گی۔ امید ہے یہ معاہدہ قائم و دائم رہے اور ہر کوئی اپنے مفادات کی خاطر اس معاہدے کا تحفظ کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ مضامین

Back to top button