فلسطین: یوم الارض کی مناسبت سے مظاہرے

پورے فلسطين ميں يوم الارض کي مناسبت سے مظاہروں ميں فلسطيني عوام نے ايک بار پھر غاصب صيہوني حکومت سے نفرت کا اعلان اور اپني غصب شدہ زمينوں کي واپسي کا مطالبہ کيا ہے۔ شمالي فلسطين کے علاقے الخليل کو ايک يہودي علاقہ بنانے کے مقصد سے 1948 ميں فلسطيني مسلمانوں کي زمينوں پر قبضے کے خلاف اڑتيس برس قبل ايک مظاہرے کو صيہونيوں نے نہايت سختي سے کچل ديا تھا۔ اس المناک واقعے کی یاد میں
فلسطيني مسلمانوں نے احتجاجي مظاہرے کے ذريعے صيہوني حکومت کے مظالم کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار اور اپني غصب شدہ زمينوں کي واپسي کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز يوم الارض کي مناسبت سے پورے مقبوضہ فلسطين ، غزہ پٹي اور غرب اردن ميں فلسطيني اتھارٹي کے زير انتظام علاقوں ميں وسيع پيمانے پر مظاہرے ہوئے۔ يوم الارض کي مناسبت سے لبنان، شام کے علاقے جولان ، تيونس اور ديگر ملکوں ميں بھي مظاہروں کي اطلاعات موصول ہوئي ہيں۔اس موقع پر غزہ کے محاصرے کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کام کرنے والي کميٹي کے چيئر مين اور فلسطين کي قانون ساز اسمبلي ميں آزاد نمائندے جمال الخضري نے کہا ہے کہ يوم الارض کو فلسطيني تنظيموں کے درميان اتحاد و يکجہتي کا سر آغاز ہونا چاہيے۔ اس دوران فلسطینی عوام اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ غاصب صہیونی حکومت کے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے دستی بم فائر کیے اور ان پر حملہ کر دیا۔ صہیونی فوجیوں کے حملے میں چار صحافیوں سمیت کئی مظاہرین زخمی ہو گئے۔ ادھر یمن کے دارالحکومت صنعا میں فلسطینی سفارت خانے کے باہر کے ہزاروں کی تعداد میں حوثیوں نے ریلی کا انعقاد کیا۔ مظاہرین نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت کریں اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کریں۔ اسی طرح کا مظاہرہ تیونس میں بھی کیا گیا جہاں مظاہرین نے اسرائیلی پرچم کو آگ لگائی۔








