یہودیوں کے ہاتھوں قبلہ اول غیرمحفوظ ہوچکا، مسلم امہ ذمہ داریاں پورے کرے

مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی علماء پرمشتمل سپریم اسلامک کونسل نے انتہا پسند یہودیوں اور صہیونی ریاست کی قبلہ اول کےخلاف سازشوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرپسند یہودی آج بھی مسجد اقصیٰ کو جلا کر خاکستر کرنے کی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قبلہ اول پرروز مرہ کی بنیاد پر صہیونیوں کی یلغار، مقدس مقام کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے جاری کھدائیاں اور مسجد کی اراضی کو یہودی معابد کے لیے استعمال کیے جانے کے اقدامات دراصل چوالیس سال قبل مسجد اقصٰی کو آگ لگا کر شہید کرنے کی سازشوں کا حصہ ہیں۔
یہ بات سپریم اسلامک کونسل کی جانب سے مسجد اقصٰی کی آتش زدگی کے ہولناک سانحے کے چوالیس سال مکمل ہونے پرایک خصوصی بیان میں کہی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جس طرح 21 اگست 1969ء کو ایک انتہا پسند یہودی آباد کارنے مسلمانوں کے قبلہ اول کو آگ لگا کراسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی شرمناک سازش کی تھی، آج چوالیس سال کے بعد قبلہ اول کو مٹانے کے لیے ہزاروں یہودی شرپسند اوراسرائیلی ریاستی مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ قبلہ اول(مسجد اقصیٰ) دنیا کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے۔ واقعہ معراج سے آج تک اور تا قیامت یہ مسجد صرف مسلمانوں کی ملکیت رہے گی، جس پرکسی دوسرے مذہب اور ملت کا ذرا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ کوئی مسلمان مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کا ایک ذرے برابر حق تسلیم نہیں کرے گا۔
سپریم اسلام کونسل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس و ثقافت”یونیسکو” کی جانب سے مسجد اقصٰی کی تاریخی اسلامی حیثیت کو تسلیم کرنے کو سراہا اور کہا کہ "یونیسکو” نے بھی یہ بات بجا طور پر تسلیم کی ہے کہ یہودی حکومت مسجد اقصیٰ کی بنیادیں کھوکھلی کر کے جعلی یہودی آثارقدیمہ کی تلاش کی آڑ میں قبلہ اول کے حقیقی اسلامی تاریخی اور تہذیبی ورثے کو تباہ کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ "یونیسکو”نے اردن کی درخواست پر سنہ 1981ء میں مسجد اقصیٰ کو زمین پرمسلمانوں کے قدیم تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مرکز کے طور پر اپنی فہرست میں شامل کیا تھا اور اسی عرصے میں صہیونی ریاست نے بھی قبلہ اول کی اسلامی شناخت مٹانے کے لیے سازشیں شروع کر دی تھیں۔
فلسطینی سپریم اسلامک کونسل نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ ہرچیز پربات چیت اور مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن مسجد اقصیٰ وہ مقدس مقام ہے جس پر اسرائیلی حکومت، کنیسٹ یا کسی دوسرے ادارے سے کوئی ایک بات بھی نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس کا کوئی نعم البدل قبول کیا جا سکتا ہے۔
تنظیم نے مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات پر خبردار کرنے کے بعد عالم اسلام اورعرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قبلہ اول کے حوالے سے اپنی اخلاقی، ملی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنے اس تاریخی مقدس مقام کو یہودیوں کی دست برد سے بچائیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہودی آج بھی اپنے ہاتھوں میں آگ کے شعلے لیے مسجد اقصٰی کی طرف لپک رہے ہیں۔ عالم اسلام نے اس نازک موقع پرذمہ داری کا ثبوت نہ دیا تو سنہ 1969ء سے زیادہ خطرناک حادثہ پیش آ سکتا ہے۔








