یوم قدس،انقلاب اور عوامی تحریکوں کے زور پکڑنے کی نوید

24 اگست, 2011 10:25

shiitenews bidariتحریک جہاد اسلامی کے سینئررکن نافذ عزام نے کہا ہے کہ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کی جانب سے جمعۃ الوداع کو یوم قدس قراردینے سے فلسطین کاز کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا بنیادی ترین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم قدس میں اقوام عالم ملت فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔ نافذ عزام نے

کہا کہ ملت فلسطین اپنے حقوق کی بازیابی کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوگي اور کبھی بھی اسرائيل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گي۔ تحریک جہاد اسلامی کے اس رہنما نے کہا کہ عرب حکومتوں نے مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نےعرب حکومتوں کے اس رویے کی مذمت کی۔ نافذ عزام نے عرب ملکوں میں جاری عوامی تحریکوں کو فلسطینی قوم کےحق میں قراردیا اور کہا کہ عرب قوموں نےگزشتہ برسوں کے دوران ملت فلسطین کی حمایت کی ہے۔ سامعین جمعتہ الوداع کو کو یوم قدس کا انعقاد امام خمینی کا ایک ایسا عظیم کارنامہ کہ جسے مسلم امہ نے دل وجان سے تسلیم کیا اور اگرچہ حکمرانوں کی طرف سے اس راہ میں بہت زیادہ رکاؤٹیں ڈالیں لیکن اس کے باوجود یوم قدس کے مراسم روز بروز فروغ پارہے ہیں اور اب اس سال انشاللہ یہ دن نہایت ہی مثال انداز میں منا یا جائےگا۔یوم القدس کی اہمیت کے پیش نظر بہتر ہوگا کہ ہم یہاں بیت المقدس کی تاریخ کا مختصر جائزہ لے رہے ہیں ۔بیت المقدس فلسطین کا شہر اور دارالحکومت یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر حضرت عیسٰی کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ مسلمان تبدیلی قبلہ سے پہلے تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ بیت المقدس کو یورپی زبانوں میں Jerusalem یروشلم کہتے ہیں۔ "بیت المقدس”سے مراد وہ "مبارک گھر” یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہو سے پاک ہوا جاتا ہے۔ پہلی صدی ق م میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا۔سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام نے عراق سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ 620ء میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جبریل امین کی رہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہنچے اور پھر معراج آسمانی کے لیے تشریف لے گئے۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق مسجد بیت المقدس کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام (961 ق م) کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی۔ اس لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے، اس وقت یہاں کوئی مسجد یا ہیکل نہ تھا، چنانچہ قرآن مجید میں مسجد کی جگہ ہی کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ 2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الٰہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا۔ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا۔پہلی جنگ عظیم دسمبر 1917ء کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس خطے کو دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور جب 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس کے جنگ کے نتیجے میں صہیونی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئے، تاہم مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آ گئے۔ جون 1967ء تیسری عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے چنانچہ صہیونی شدت پسند مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔یہ تو تھی بیت المقدس کی مختصر تاریخ اور یہ کہ کس طرح مکر و فریب کے ذریعے انگریزوں نے یہاں پر شدت پسند صہینوں کو لاکر بسایا اور اقوام متحدہ کے ذریعے سرزمین فلسطین کو ایک خودساختہ مملکت میں تبدیل کردیا کہ جسے اسرائیل کہا جاتا ہے۔ لیکن کیت زور زبردستی سے کسی ملک پر قبضہ جمایا جاسکتا ہے، کیا کسی قوم کو اس کے وطن سے بے دخل کرکے وہاں کسی دوسری قوم کو لاکر آباد کیا جاسکتا ہے۔ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہی اور کمزور قوموں کے ساتھ ظلم اور جبر کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔لیکن غیرتمند اقوام کبھی بھی بیرونی طاقتوں کے تسلط کو تسلیم نہیں کرتیں، البتہ طاقت اور جبر کے ذریعے ان کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے اور مکرو فریب اور حکمرانوں کو خرید کر تھوڑے عرصے کے لئے ایسا ضرور کیا جاسکتا ہے لیکن بیداری چونکہ قوموں کی فطرت ہے لہذا ایک دن وہ ضرور آتا ہے جب بیرونی طاقتیں اپنا تسلط ختم کرني پر مجبور ہوجاتی ہیں۔اسرائیل کی نام نہاد مملکت کو امریکہ اور چند مغربی ممالک سہارا دئیے ہوئے ہیں اور عرب اور اسلامی دنیا پر مسلط کچھ خاندان اس سلسلے میں امریکیوں کے ساتھ ہیں لہذا اگر یہ بندھن ٹوٹ جائے اور امریکہ اس قابل نہ رہے کہ وہ صہیونی حکومت کی حمایت جاری رکھ سکے تو بعید ہے کہ صہیونی حکومت حتی ایک دن بھی دوام لاسکے۔خوش قسمتی سے اس کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔عرب اور اسلامی دنیا میں بیداری کی لہر اور امریکہ میں اقتصادی بحران سے سب سے زیادہ تشویش اور پریشانی صہیونی حکومت اور اس کے ہمنواؤں کو ہےاورا بلا شبہ رہبر انقلاب اسلامی کی یہ پیش بینی کہ صہیونی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے، پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔صہیونی حکومت کے بقا اور دوام میں امریکہ اور مغربی حکومتیں جتنی مقصر ہیں، اس کے خاتمے کی راہ میں سعودی عرب اور بعض عرب حکومتوں کا کردار بھی اتنا ہی موثر ہے، تاہم تیونس مصر اور لیبیا میں عوامی طاقت کے سامنے مغرب نواز اور آمر حکمرانوں کے میدان سیاست سے حذف ہونے کے بعد، سعودی عرب اور صہنیت نواز دیگر حکومتوں کا کردار پھیکا پڑتا جارھا ہے اور توقع ہے کہ اس سال ان ملکوں میں پہلی مرتبہ یوم قدس کے موقع پر ریلیاں نکال جائیں گی جو ان ملکوں میں انقلابی اور عوامی تحریکوں کے زور پکڑنے کی نوید ہے۔

12:14 شام اپریل 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔