سید حسن نصر اللہ کا خصوصی انٹرویو
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے تاکید کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سمجھوتے کے نتائج بہت عظیم ہیں اور اس سمجھوتے میں جیت علاقائی قوموں کی ہوئی ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق سید حسن نصراللہ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ بعض علاقائی و بین الاقوامی فریق گذشتہ برسوں کے دوران ایران کے ساتھ جنگ کے درپے رہے ہیں ، لیکن یہ آپشن اتنا آسان و سادہ نہیں تھا ، کیونکہ ایران ایک طاقتور ملک ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے تاکید کی کہ ایران کے ساتھ جنگ کا آپشن علاقے کے لئے نہایت ہی خطرناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے اس انٹرویو میں کہا کہ جوہری سمجھوتے کا پہلا نتیجہ یہ ہے نکلا کہ ایران کے خلاف جنگ کا آپشن تقریبا ختم ہوچکا ہے؛ اور صہیونی حکومت امریکہ کے گرین سگنل کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے تاکید کی کہ علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ عراق پر امریکہ کے حملے میں واشنگٹن کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغانستان میں بھی امریکی پالیسیاں ناکام رہی ہیں اور لبنان و غزہ میں بھی امریکہ کا نئے مشرق وسطی کا منصوبہ شکست کھاگیا اور شام میں بھی ابھی تک امریکہ کے نصیب میں ناکامی ہی رہی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے مزید کہ کہ ایران نے پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور امریکہ کا ایران کے جمہوری اسلامی نظام کو سرنگون کرنے کا خواب ، شرمندہ تعبیر نہیں ہوا، اس کے مقابلے میں امریکہ اور یورپی ملکوں میں اقتصادی و مالی بحران نے ان ملکوں کی حکومتوں کی کمر کو توڑ دیا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس جنگ کرنے کی سکت تک نہیں ہے اور وہ جنگ کے نام سے خوف کھاتا ہے؛ اور یہی وجہ ہے کہ جوہری سمجھوتے کی راہ ہموار ہوئی اور ایک عبوری معاہدہ سامنے آیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ امریکہ یہ چاہتا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کے دوران ، کوئی اور کیس کھول دے ، لیکن ایران نے جوہری کیس کے حوالے سے مذاکرات کو جاری رکھنے پر تاکید کی ، کسی اور کیس کو میز پر لانا ایران کے فائدے میں نہیں تھا اور ایران نے جوہری معاہدے پر ہی اصرار کیا۔ حزب لبنان کے سربراہ نے کہا کہ ایرانی حکام نے ہمیشہ کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہماری مشکل ، صہیونیوں کے ساتھ ہماری مشکل سے مختلف ہے، صہیونی حکومت کے بارے میں ایران کا موقف واضح ٹھوس اور ناقابل تغییر ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ایرانی حکام نے ہمیشہ کہا ہے کہ جب بھی امریکہ نے ہمارے حقوق کو سرکاری سطح پر تسلیم کرلیا اور علاقائی قوموں کے حقوق کی رعایت کرنے کے لئے آمادہ ہوا ؛ امریکہ کے ساتھ گفتگو کے لئے آمادہ ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ امریکہ کے موقف میں تبدیلی رونما ہوئی ہے لیکن ایران کا موقف پہلے جیسا ہی ہے اور ابھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے کے حوالے سے بات کرنا قبل از وقت ہے اور بہت سارے مسائل باقی ہیں اور یہ اتنی جلدی حل ہونے والے نہیں ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے ایران کے وزیر خارجہ کے علاقائی ملکوں کے حالیہ دورے کے بارے میں کہا کہ ایران نے حتی ایک دن بھی اپنے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات منقطع نہیں کیئے ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ ایران نے برسوں قبل سے ہی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے لئے کوشیشوں کا آغاز کررکھا ہے ، لیکن اس سلسلے میں انجام پانے والی تمام تر کوششیں ناکام رہی ہیں کیونکہ خود سعودی عرب ان تعلقات کو برقرار کرنا نہیں چاہتا ، پاکستان نے اس حوالے سے جدت عمل کا مظاہرہ کیا تھا ایران نے اس حوالے سے اپنی آمادگی بھی ظاہر کی تھی لیکن سعودی عرب نے اس کو مسترد کردیا۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ شہزادہ نایف کے انتقال سے قبل ایران کے وزیر اطلاعات نے سعودی عرب کے دورے میں ان سے ملاقات کی تھی اور اس نے بھی مفاہمت کے لئے کوشش کی لیکن ماحول سو فیصد منفی تھا۔ حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب ابتدا میں ایران کو دشمن سمجھتا تھا ، ایران پر صدام کے حملے سعودی عرب کی حمایت و سرمایہ کے نتیجے میں ہی انجام پائے اس جنگ میں بھی سعودی عرب کی پالیسیوں کو شکست ہوئی اور اس جنگ کے نتائج ایران ، عراق اور حتی ملت فلسطین کو برداشت کرنا پڑے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے اقدامات نہیں روکے بلکہ جاری رہے اور 1979 سے ایران کے خلاف سعودی عرب کی جنگ تھمی نہیں ہے؛ سعودی عرب میں کسی بھی مقابل فریق کے ساتھ براہ راست جنگ میں داخل ہونے کی جرآت تک نہیں ہے بلکہ سعودی عرب مختلف واسطوں اور رقم خرچ کرکے جنگ میں حصہ دار ہوتا ہے اور ریاض نے مختلف واسطوں کے ذریعے شام ، ایران ، عراق اور لبنان میں محاذ کھول رکھے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا قطر کے وفد نے آپ سے ملاقات کی ہے کہا کہ قطر کا ایک وفد میرے پاس آیا تھا اور یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ قطر کی علاقائی پالیسی میں کچھ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور قطر نے اعزاز کے اغوا ہونے والے کے حوالے سے اچھے اقدامات کیئے ہیں سید حسن نصراللہ تاکید کی کہ ہم ہمیشہ ہی سے شام میں سیاسی راہ حل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ہمارے و قطر کے درمیان ہمیشہ ہی سے اس حوالے سے ایک نشان موجود رہا ہے ، لیکن دونوں کی پالیسیاں مختلف ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ شام میں فوجی آپشن کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے اور دنیا کے اکثر ملکوں کا خیال ہے کہ شام کے بحران کی تنہا راہ مذاکرات و سیاسی گفتگو ہے ، اور اس زاویہ نگاہ میں قطر کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اس انٹرویو میں کہا کہ ترکی کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع نہیں ہوئے ہیں ، کچھ عرصے پہلے ترکی کے سفیر کے ساتھ ملاقات رہی ہے اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی نئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بعد ، تعلقات میں نظرثانی کے لئے ترکی کی جانب سے بہت زیادہ کوشیشیں ہوئی ہیں اور ترکی یہ سمجھ گیا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھویا ہے ، شام کے بحران سے پہلے لبنان ، شام اور ایران کے ساتھ ترکی کے تعقات اچھے تھے لیکن اس وقت وہ شام سے نکالے جاچکے ہیں اور عراق میں بھی ترکی کو مشکلات کا سامنا ہے اور ایران کے ساتھ بھی ترکی کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں ۔۔۔ ترکی خارجہ تعلقات میں گوشہ نشین ہوگیا ہے اور اس امر نے ترکی کی اندونی صورت حال پر بھی اثرات مرتب کیئے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے کا ایک بڑا ملک ہے اور آج علاقے میں ایک بااثر ملک شمار ہوتا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا جب مسلح دھشتگرد دمشق میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حرم مقدس کو ویران کرنے کا ارادہ کررہے تھے اور دھشتگردوں کا یہ اقدام علاقے میں فتنہ و فساد کا موجب بن سکتا تھا ، ہم نے 40 سے لیکر 50 تک افراد حرم مقدس کے دفاع کے لئے روانہ کیئے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی قصیر کے باشندوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اپنا دفاع کریں گے اور انہوں نے ٹرینگ کی درخواست کی اس لئے ان کو ضروری تربیت دی گئی۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ شام میں ہماری مداخت منطقی و حقیقی تھی ، اور کسی دوسرے ملک میں ہماری فورسز نہیں ہیں۔۔۔ شام میں دسیوں لبنانی کا قتل ہوا ہے لیکن ہم اپنے مقتولین کا اعلان کررہے ہیں ہم اپنے شہداء کے سامنے سرخ رو ہیں ہمیں ان پر فخر ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب شام میں جنگ پر اصرار کررہا ہے جبکہ عالمی برادری سیاسی راہ کی تلاش میں ہے شاید بعض ممالک کو سیاسی راہ حل کے حوالے سے زیادہ جلدی نہ ہو لیکن دنیا کی توجہ سیاسی راہ حل کی جانب ہے اور اکثر یورپی و عرب ممالک شام کے نظام کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کے درپے ہیں لیکن سعودی عرب ، خون کے آخری قطرے تک جنگ کو جاری رکھنے پر اصرار کررہا ہے اور کسی بھی سیاسی راہ حل کو قبول نہیں کرتا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے خبر دار کیا کہ سعودی عرب کے انٹیلیجینس ادارے القاعدہ کے اکثر دھڑوں کو فعّال کیئے ہوئے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کے قریب ہونے والے خودکش دھماکوں میں (عبداللہ عزام) بریگیڈ کا ہاتھ ہے اور یہ گروہ سعودی عرب کا حمایتی یافتہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ عراق میں رونما ہونے والے اکثر بم دہماکوں میں سعودی عرب کے خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے لبنان کے شہر طرابلس میں رونما ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بارے میں کہا کہ حکومت حتمی طور پر طرابلس کے حوالے سے راہ حل پیدا کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرے ، کہا جارہا ہے کہ طرابلس کو فوجی علاقہ قرار دیا جانا ایک غلطی ہے اور میقاتی پر خیانت کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے لیکن جب بعلبک میں ایک طویل عرصے تک فوج تعیینات رہی اور اس علاقے کو فوجی علاقہ قرار دیا گیا کسی نے بھی نہیں کہا کہ یہ کام شیعوں کو نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا ہے۔