میانمار میں مسلمانوں کے ۳۵ گھر نذر آتش

میانمار کے شمال مغربی علاقے میں آج اتوار کو بدھ مذہب کے تقریباً ایک ہزار افراد نے مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں کو نذرِ آتش کردیا۔ یہ واقعات ان افواہوں کے بعد ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک مسلم مرد نے ایک خاتون پر جنسی حملہ کیا ہے۔
خبررساں ایجنسی اے پی کو ایک مقامی پولیس افسر نے بتایا کہ ہفتے کو رات گئے ایک ہجوم نے اس پولیس سٹیشن کو گھیرے میں لے لیا جہاں مشتبہ مسلمان شخص کو رکھا گیا تھا۔ گھنٹوں احتجاج کے باوجود بھی پولیس نے اس شخص کو ہجوم کے حوالے نہیں کیا۔
اس کے بعد صبح کو مسلمانوں کے گھروں کا جلاؤ گھیراؤ کیا گیا جس میں 35 مکانات اور بارہ دکانیں جلادی گئیں۔
بدھ مذہب کے بھکشو، ویراتھو جن کے مسلم مخالف بیانات نے انہیں دنیا بھر میں مسلمانوں کیخلاف ایک اہم شخصیت ثابت کیا ہے، نے اس فساد کی خبر اپنے فیس بک پیج پر رکھی ہے۔،
دوہزارگیارہ میں فوج کی جانب سے حکومت سویلین اداروں کو سونپنے کے بعد سے ملک شدید تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ اس بدامنی کی وجہ سے اب تک 250 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور140,000 اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ تشدد کے ذیادہ تر واقعات راکھین میں ہوئے ہیں۔








