سعودی عرب شام پر امریکی حملے کا حامی نمبر ایک

28 اگست, 2013 10:25

bander sultanاخبار "وال سٹریٹ جرنل” نے واشنگٹن میں سفارتی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان امریکی حکام کو مسلسل شام پر حملے کے لیے اکسا رہے ہیں۔
اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ بندر خود امریکہ سفر نہیں کرتے بلکہ انہوں نے واشگنٹن میں موجود سعودی سفیر’’ عادل الجبیر‘‘ کو یہ ذمہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ امریکی حکام سے رابطے میں رہیں اور انہیں شام کے خلاف مسلسل اکساتے رہیں۔
وال سٹریٹ جرنل نے مزید لکھا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ، اردن اور ان کے حامیوں نے شام کی سرحد کے قریب اردن میں فوجی اڈہ قائم کر لیا ہے تاکہ وہ شام کو نشانہ بنا سکیں۔
اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ۲۰۱۲ میں اردن میں اسلحہ کا ڈپو لگا دیا تھا جو شہزادہ سلمان کی نگرانی میں ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے بادشاہ نے ۲۰۱۳ میں بھی تلخ لہجے میں اوباما کو خط لکھا ہے کہ اگر امریکہ شام میں بشار الاسد کو مزید فرصت دیتا ہے تو اس سے علاقے کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔
سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے بھی امریکہ کو شام کے خلاف جارحیت کے لیے اکسانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے شام کے علاقے غوطہ شرقیہ میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا وقوعہ بنا کر اوباما کے لیے ریڈ لائن کھینچ دی کہ وہ بہر صورت اس مسئلے میں مداخلت کرے اور شام پر حملے کا موقع ہاتھ سے نہ گنوائے۔

2:14 شام مارچ 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔