سعودی جیلوں میں تشدد 100یمنی باشندے قتل

22 جنوری, 2013 09:14

jail arestیمن کی قومی انسانی حقوق کی انجمن نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں ایک سو یمنی باشندوں کو تشدد کرکے قتل کیا جاچکا ہے جن کی لاشیں سرحدی شہر "الخوبہ” کے ایک اسپتال میں پڑی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق یمن کی انسانی حقوق کی قومی انجمن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں تین ہزار یمنی باشندے پابند سلاسل ہیں جن میں سے ایک سو سے زائد یمنی باشندوں کی لاشیں سعودی سرحدی شہر الخوبہ کے اسپتال میں پڑی ہیں۔
العالم کے مطابق مذکورہ انجمن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک پندرہ سالہ یمنی بچے "العزي الریمی” کے والدین نے اس انجمن سے شکایت کی ہے کہ ان کا بیٹا سعودیوں کے تشدد اور مارپیٹ کی وجہ سے قتل ہوا ہے اور جیل حکام نے ان کے بچے پر صرف اس لئے تشدد کیا ہے کہ وہ ایک سعودی قیدی سے لڑپڑا تھا لیکن اس لڑائی کے نتیجے میں ان کے بیٹے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جبکہ سعودی قیدی کو کسی قسم کی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
انجمن نے کہا ہے کہ اسپتال میں پڑی لاشوں کے معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ ان افراد کو جنہیں سعودی جیل حکام نے تشدد کرکے اور ایذائیں پہنچا کر قتل کیا ہے۔
یمن کی قومی انسانی حقوق کی انجمن نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ سعودی سیکورٹی ادارے نے یمنی باشندوں کو تفتیش کے بہانے گرفتار اور نجران سمیت کئی سرحدی علاقوں کی جیلوں میں منتقل کیا ہے جبکہ اکثر اسیروں کی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں جو کام کی تلاش میں سعودی عرب میں داخل ہوئے تھے اور انہیں بغیر کسی جرم کے قید و بند اور تشدد اور قتل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انجمن نے کہا ہے کہ سعودی حکام نے ابھی تک ہزاروں یمنی حکام کو حبس بے جا میں رکھا ہے اور وہ ان کی گرفتاری کی وجہ بیان کرنے ہیں اور نہ ہی انہیں عدالت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

10:45 صبح مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔