بحرین کے پرل اسکوایر والے کیا چاہتے ہیں؟

05 مارچ, 2011 11:02

Bahraini-policemenبحرین کا (لؤلؤہ) پرل سکوائر بھی قاہرہ کا تحریر سکوائر بن چکا ہے۔ پرل سکوائر پر جمع مظاہرین پر جمعرات کو سکیورٹی فورسز حملہ آور ہوئیں تھیں اور انہیں وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا جبکہ فورسز کے حملے میں اب تک سات کے قریب مظاہرین شہید ہوچکے ہیں۔
مختلف ٹی وی چینل خاص کر العالم اور پریس ٹی وی کی فوٹیج سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نہتے مظاہرین پر خاصے فاصلے سے سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی اور گولیاں لگنے سے احتجاج کرنے والوں میں سے چند گر پڑے ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ بحرین کے مظاہرین انتہائی منظم اور ذرائع ابلاغ کے تمام وسائل سے لیس ہوکر سڑکوں پر آتے ہیں۔
گذشتہ چند دہائیوں کے تجربات نے انہیں یہ بات سمجھا دی ہے کہ ان کی آواز اور احتجاج کو دنیا کے باضمیر انسانوں تک پہنچنے نہیں دیا جاتا اسلئے انہوں نے خود ہی اس کا انتظام کیا ہوا ہے ہر شخص کے ہاتھ میں یا کیمرہ ہے یا پھر موبائل جس کے ذریعے وہ ہر منظر اور واقعے کو ریکارڈ کر لیتے ہیں جسے بعد میں مختلف قسم کی ووڈیو ٹیوب اور سائٹوں پر لوڈ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ جب بحرینی کرائے کی فورسز نے حملہ کردیا تو اس وحشیانہ حملے کی ریکارڈنگ منظر عام پر آگئی۔
مغربی ذرائع ابلاغ میں بحرین میں شیعہ اور سنی آبادی کے تناسب کا تذکرہ اور اختلاف تقریباً ہر رپورٹ میں بیان کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ عرب دنیا میں ہر احتجاج کو حکمرانوں نے کسی سازش ہی سے جوڑا ہے۔ جیسا کہ مصر کے بارے میں یہ ذرائع ابلاغ بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ حسنی مبارک نے دعویٰ کیا کہ مصری انقلاب کے پیچھے اسلامی شدت پسند ہیں۔ یہی باتیں بن علی نے تیونس میں کیں۔ لیبیا کے معمر قذافی کو اس کے پیچھے القاعدہ کا سیاہ اور منحوس ہاتھ دکھائی دیا۔ پورے عرب ممالک میں شہریوں کی بیداری، آزادی رائے کی کوشش کے پیچھے اسلامی تشدد پسندوں یا پھر فرقہ واریت کا نام لیا گیا۔
عجیب بات یہ ہے ان ذرائع ابلاغ کو ان مماک خاص بحرین میں یہ بات نظر نہیں آتی ہے یہاں کی پولیس اور آرمی بیرونی ممالک سے کرایے پر لائے گئے زرخریدوں پر مشتمل ہے جن پر بادشاہ کے احسانات کا بوجھ بھی ہے اور انہیں یہ احساس بھی کہ وفاداری کا ہر ثبوت ان کی مراعات میں اضافے کی شکل میں ہی نکل سکتا ہے۔
دور سے عرب ڈکٹیٹروں کی طرح شروع شروع میں بحرین کے بادشاہ بھی اس بات کی رٹ لگاتے رہے کہ احتجاج سے بحرین میں مذہبی تفرقہ پھیلنے کا خطرہ ہے جس پر ملک کی اہلسنت کی سب سے بڑی جماعت نے کھل کر اس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ احتجاج در حقیقت اپنی کھوئی ہوئی شناخت کے حصول اور نا انصافی کے خلاف ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔
بحرین میں ہونے والے مظاہرے شیعہ اور سنی دونوں مل کر آرگنائز کر رہے ہیں اور وہ مسلسل ان نعروں کو دہراتے ہیں ”لاسنیة و لاشیعة وحدہ وحدہ بحرینیة“نہ ہم سنی ہیں اور نہ شیعہ ہم بحرینی وحدت کے حامی ہیں“۔
بی بی سی کی نامہ نگار بحرین کی موجودہ تحریک کے بارے میں کہتی ہیں ”اس مرتبہ احتجاج مختلف قسم کا ہے۔ نوجوان سنی اور شیعہ دونوں اکٹھے مارچ کر ر ہے ہیں، اور وہ یہ نعرہ لگا رہے ہیں ’ہم نہ سنی نہ شیعہ صرف بحرینی‘۔ ان کے مطابق اس طرح کی صورت ہم نے پہلے نہیں دیکھی۔
مجلس وحدت کے مشرق وسطیٰ امور کے ماہرین کے مطابق اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ان احتجاجات کا تیسرا ہفتہ شروع ہوچکا ہے کہ مسلسل لاکھوں افراد کی ریلیاں منعقد ہورہی ہیں جن کا مطالبہ حکومت کا خاتمہ اور ترمیم شدہ آئین کے مطابق نئی حکومت کی تشکیل ہے۔
ترمیم شدہ آئین وہ آئین ہے جس پرخود بحرین کے بادشاہ نے دستخط کئے ہیں اور اس آئین کے مطابق بادشاہ کے آئینی اختیارات انتہائی محدود ہو کر صرف آئینی بادشاہت رہ جاتی ہے جبکہ اس ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر بادشاہ اپنے چچا کو بٹھایے ہوئے ہیں۔ لیکن پرل یا لؤلؤۃ اسکوائر میں دھرنا لگائے بیٹھے جوان لڑکے اور لڑکیاں صرف اس بات پر اکتفاءکرنے کو تیار نہیں بلکہ ان کہنا ہے کہ بادشاہت کو اب چلتا کرنا چاہیے وہ بنیادی طور پر بادشاہی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں ان کے لبوں پر ”الشعب یرید اسقاط النظام “یعنی عوام اس سسٹم کا خاتمہ چاہتی ہے کے نعرے ہیں۔
لوءلوءہ میدان میں دھرنا لگائے افراد اس قدر منظم اور باخبر ہیں کہ ان سے کسی بھی قسم کی توقع کی جاسکتی ہے ان کا ہرکام انتہائی پلان شدہ اور مرحلہ وار نظرآتا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اسے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟
لوءلوءہ میدان میں بیٹھے افراد ڈش انٹینا اور بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں کے زریعے دنیا بھر کے حالات اور تجزیوں سے واقف رہتے ہیں ،لوءلوءہ میدان میں دن رات مختلف محفلوں اور پروگراموں کا انتظام موجود ہے، باجماعت نماز سے لیکر، مظاہرے میں شہید ہونے والوں کے لئے قرآن خوانی و مجالس ترحیم کا انعقاد، اور سیاسی و سماجی موضوعات پر گفت و شنید ہوتی ہے۔
بحرین کے مختلف شعراء علماءکرام تشریف لاتے ہیں اور ان کی استقامت اور موقف کو مزید مضبوطی بخشتے ہیں۔
ان دھرنا لگانے والوں میں جوان بوڑھے، خواتین یہاں تک کہ فیملیاں بھی موجود ہیں۔
میدان لوءلوءہ در حقیقت ایک ایسی سوسائٹی میں تبدیل ہوا ہے جہاں ہر قسم کے حالات اور ضروریات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
لوءلوءہ میدان میں ایک بڑی تعداد شیعہ اور سنی علمائے کرام کی بھی ہے جو دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں۔
تحریر و تحقیق(ع صلاح ماہر امور مشرق وسطیٰ)
۔

2:52 شام مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔