لیبیا،انقلابی کونسل کا قذافی کے اقتدار چھوڑنے تک مذاکرات سے انکار

04 مارچ, 2011 11:21

libyan_winیبیا کی انقلابی کونسل نے کہا ہے کہ معمر قذافی کے اقتدرا چھوڑنے اور جلاوطن ہونے کے بعد ہی مذاکرات کئے جا سکتے ہیں جبکہ بن غازی میں انقلابی کونسل نے قذافی حکومت کے فضائی حملے روکنے کے لئے غیرملکی مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انقلابی کونسل کے سربراہ سابق وزیر داخلہ مصطفی عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ قذافی کو ملک چھوڑ کر جانا پڑے گا، مذاکراتی ایجنڈا اور کچھ نہیں، لیبیا کے قبائل بھی انقلابی کونسل اور  مظاہرین کی مدد کو پہنچ رہے ہیں، لبیا مزید خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
امريکی صدر براک اوباما نے ايک با ر پھر معمر قدافی سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ اقتدار سے عليحدہ ہو جائیں۔ عالمی عدالت نے بھی کرنل قذافی، ان کے بیٹوں اور سینیئر معاونین کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور شہریوں کا قتلِ عام کرنے کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جبکہ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے لیبیا کے لئے امن کے لئے امن کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
ادھر لیبیا میں حالات خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر نے معمر قذافی سے فوری اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا جبکہ وینزویلا کے صدر نے بحران کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جسے انقلابیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ لیبیا کے علاقوں اجدابیا اور بریجا پر فوج کی بمباری کے بعد مختلف قبائلی علاقوں سے رضاکار انقلابیوں کی مدد کو پہنچ رہے ہیں۔ اسلحہ سے لیس رضاکار سرکاری فوج سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ایک برطانوی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے کہا کہ بریجا کی بندرگاہ پر بمباری کا مقصد باغیوں کو ڈرا کر وہاں سے بھگانا تھا۔ بمباری کے مقام سے بریجا شہر کوسوں دور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باغی تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ذخائر کو محفوظ بنایا جائے گا کیونکہ ساٹھ لاکھ افراد کا مستقبل تیل کی برآمدات سے وابستہ ہے۔ انھیں باغیوں کے کنٹرول میں جانے نہیں دیا جائے گا، اس پر پورے لیبیا کے عوام کاحق ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بار پھر کہا ہے کہ معمر قذافی حکمرانی کا حق کھو چکے ہیں انھیں فوری طور پر اقتدار چھوڑ دینا چاہئے۔ جبکہ وینزویلا صدر ہیوگو شاویز نے لیبیا کا بحران حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے انھوں نے قذافی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ وہ لیبیا کی حکومت اور باغیوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے تیار ہیں۔ غیرملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق قذافی نے ہیوگو شاویز کی تجویز کو سراہا ہے۔ لیکن ان کے بیٹے سیف الاسلام نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ غیرملکی ثالثی کی ضرورت نہیں، بحران سے خود نمٹیں گے۔ عرب لیگ بھی وینزویلا کے صدر کی پیشکش پر غور کر رہی ہے۔ ادھر لیبیا میں اپوزیشن کی قومی کونسل اور مغربی ملکوں نے اس آفر کو مسترد کر دیا ہے۔

3:41 صبح مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔