مصر:ساتویں دن بھی ہزاروں کا احتجاج، عام ہڑتال کا مطالبہ

مصر میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے ساتویں روز بھی ہزاروں مظاہرین قاہرہ کے تحریر سکوائر میں جمع ہوئے ہیں اور عام ہڑتال کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی علاقے میں واقع التحریر سکوائر میں پچاس ہزار کے قریب لوگ جمع ہوئے۔ اور اس بات کا علان کیا گیا ہے کہ منگل کے روز ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا جایے گا۔ اتوار کو صدر حسنی مبارک کی حکومت کے بڑے مخالف محمد البرادعی نے ہزاروں کے مجمع کے ساتھ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قاہرہ کے التحریر (آزادی) سکوائر میں حکومت مخالف مظاہرے میں شریک ہو کر حسنی مبارک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔
مجمع سے خطاب کرتے ہوئے امن کے نوبل انعام یافتہ اور اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے کہا کہ تبدیلی آ رہی ہے اس لیے وہ تحمل سے کام لیں۔
البرادعی نے مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’جو ہم نے شروع کیا ہے وہ اب واپس نہیں جا سکتا۔‘
محمد البرادعی کو اخوان المسلمین سمیت پانچ بڑی سیاسی جماعتوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے نامزد کیا ہے۔
انھوں نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو بتایا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے انھیں حکومت کے ساتھ ایک قومی حکومت بنانے پر مذاکرات کرنے کے لیے نامزد کیا ہے۔








