متفرقہ
الجزائر؛ وہابی سلفی کتابیں ممنوع

الجزائر کی حکومت نے 2010 کی نمائش کتب کے آغاز سے ہی سلفی مذہبی کتب کی نمائش اور خرید و فروخت پر کڑی نگرانی کررہی ہے۔
حالیہ برسوں میں الجزائر کی حکومت نے سلفی افکار کے پرچار کے حوالے سے بے حسی کا ثبوت دیتے رہی ہے لیکن حال ہی میں کئی مقامات پر الجزائر کے قومی ترانے اور قومی پرچم کے سامنے سلفیوں کی طرف سے عدم احترام اور قومی ترانے کے سامنے دوسرے شہریوں کے کھڑے ہوجانے کے باوجود وہابیوں کے بیٹھے رہنے کے بعد حکومت نے اس فرقے کی جانب توجہ مبذول کرنا شروع کررکھی ہے۔دسمبر کے مہینے کے دوران الجزیرہ میں 2010 کی کتب نمائش کا اہتمام کیا گیا تو سینکڑوں وہابی اور سلفی لمبا اور سفید لباس پہن کر لمبی داڑھیوں کے ساتھ ـ جو الجزائر میں سلفیت کی نشانیاں ہیں ـ کے ساتھ سلفی کتب کی خریداری کے لئے نمائش میں حاضر ہوئے؛ لیکن الجزائر کے کسٹم حکام نے وہابی و سلفی کتب کی درآمد منع کر دی اور پولیس اور سپیشل فورسز کی مدد سے سلفی کتب کے خریداروں کے سازو سامان کی تلاشی لی حتی کہ ان کی جسمانی تلاشی بھی لی گئی تا کہ وہ کہیں وہابی کتب نمائش میں نہ لاسکیں اور اس قسم کی کتابیں خرید و فروخت کے لئے پیش نہ کی جاسکیں۔
قابل ذکر ہے کہ سلفی کتب کے ناشرین میں نصف سے زیادہ مصری ناشرین ہیں جنہیں الجزائر کی نمائش کتب میں موجودگی سے منع کیا گیا ہے۔
سلفیت حنبلی مذہب سے علیحدہ ہونے والا منحرف فرقہ ہے جو در حقیقت وہابی افکار کے لئے بھی بنیاد قرار پایا ہے۔ خالص اسلام اور توحید و یکتاپرستی کے ان دعویداروں کا کہنا ہے کہ زندگی کے تمام نئے مظاہر جیسے ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش، مغربی طرز کا لباس زیب تن کرنا، اور سیاسی امور میں حصہ لینا حرام ہے لیکن دوسری جانب سے یہ بڑی طاقتوں کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا حصہ بن کر ان کے ہاتھ کے بنے ہتھیار اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف تشدد پسندانہ اقدامات کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں اور اسلام کو کمزور کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے پر اربوں کا سرمایہ خرچ کررہے ہیں اور جہاں بھی مغربی طاقتوں کو کوئی نیا اقدام کرنا ہو یا کسی اسلامی ملک پر قبضہ کرنا یا تسلط جمانا ہو تو یہ حضرات ان کے ہراول دستے کے عنوان سے ان ملکوں کے امن و امان کو غارت کردیتے ہیں۔
سلفیوں نے عراق، افغانستان، اور پاکستان کے علاوہ الجزائر کو بھی 20 برس تک امن و سلامتی سے محروم رکھا اور 20 سالہ پر تشدد کاروائیوں کے نتیجے میں 2 لاکھ الجزائری مسلمان قتل ہوئے۔ اور وہابیت اب نئے طور طریقوں سے الجزائری مسلمانوں کے درمیان ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔