بحرين ميں آل خليفہ حکومت کے خلاف ملک گير مظاہرے

سعودي عرب کي حمايت يافتہ بحريني شاہي حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاري ہے اور ہزاروں کي تعداد ميں لوگوں نے ملک کے مختلف شہروں ميں مظاہرے کئے ہيں-
ہمارے نمائندے کے مطابق مہزا نامي علاقے ميں لوگوں کي ايک بڑي تعداد نے سڑکوں پر آکے مظاہرے کئے اور شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کے ساتھ يکجہتي کا اعلان کيا –
مظاہرين نعرے لگارہے تھے کہ ہم شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند اپنے رہنماؤں کو کبھي فراموش نہيں کريں گے-
مظاہرين اس عزم کا اظہار کر رہے تھے کہ شاہي حکومت کے خاتمے تک مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاري رکھيں گے-
جزيرہ سترہ ميں بھي بحريني شہريوں نے احتجاج کا سلسلہ جاري رکھتے ہوئے کئي علاقوں ميں شاہي حکومت کے خلاف مظاہرے کئے ہيں-
مظاہرين ملک کے سماجي ڈھانچے اور آبادي کے تناسب کو تبديل کرنے کي غرض سے غير ملکيوں کو بحرين کي شہريت ديئے جانے کي مخالفت ميں نعرے لگا رہے تھے-
مظاہرين کا کہنا تھا کہ حکومت غير ملکي ايجنٹوں کو بحرين کي شہريت ديکر انہيں انقلابي تحريک کو کچلنے کے لئے استعمال کرنا چاہتي ہے-
دارالحکومت منامہ کے نواحي علاقوں ميں عوام نے شاہي حکومت کے خلاف مظاہرے کئے ہيں اور ملک ميں جمہورت کے قيام کا مطالبہ دہرايا ہے-
بحرين ميں سعودي عرب کي شاہي حکومت کے خلاف عوامي مظاہروں ميں ايسے وقت ميں شدت آئي جب جينيوا اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل کا اجلاس ہونے والا ہے-
اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل کا اجلاس ستمبر کے وسط ميں ہوگا جس ميں بحرين کي صورتحال پر غور کيا جائے گا –







