بحرین بادشاہ کی جانب سے احتجاج کے آغاز سے پہلے مذاکرات کی دعوت

01 جون, 2011 10:46

shiitenews_bahrain_kingبحرین کے چند دہائیوں سے حاکم بادشاہ ملک حمد آل خلیفہ نے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی البتہ اس شرط کے ساتھ کہ مذاکرات کے لئے کسی قسم کی شرط نہیں ہونی چاہیے ۔
مذاکرات کی یہ دعوت صرف ایمرجنسی کے خاتمے سے چوبیس گھنٹے پہلے آرہی ہے اس دعوت میں بادشاہ کا کہنا تھا کہ ایک جامع اور مکمل و مفید مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں ۔دوسری جانب بہت سی سیاسی جماعتوں نے یکم جون کو وسیع پیمانے پر مظاہروں اور ریلیوں کا اعلان کیا ہے
ادھر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق الوطنی یا بحرین نیشنل اسلامک سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل علامہ علی سلمان اور دو اور اہم شخصیات کو پولیس نے اسٹیشن طلب کرلیا تھا جہاں ملک میں جاری مسائل کے سلسلے میں ان کے بیانات قلمبند کرنے تھے ،اس سے قبل میڈیا نے کہا تھا کہ علامہ علی سلمان کو گرفتار کی گیا ہے الوفاق کے میڈیا سیل سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق علامہ علی سلمان ،سابقہ نائب سپیکر خلیل ابراہیم مرزوق،عبدالجیل مرزوق،اور محمد یوسف سے پانچ گھنٹوں تک پوچھ کچھ ہوتی رہی اور بعد میں انہیں رہاکیا گیا ۔
بحرینی عوام اب استبدادی نظام کےسامنےخاموش نہيں بیٹھیں گے
آل خلیفہ کےعقوبت خانوں یادوسرےلفظوں میں کال کوٹھریوں میں ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نےایک بارپھر بحرینی حکام کےہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کامسئلہ اجاگرکردیاہے۔
ابھی حال ہی میں آل خلیفہ کی جیلوں سےچھوٹ کرآنےوالےڈاکٹروں نےآل خلیفہ کی کال کوٹھریوں میں ہونےوالےتشدد کےاذیت ناک واقعات بیان کئےہيں جوانسانیت کےخلاف جرائم کاواضح مصداق ہے۔ان لیڈی ڈاکٹروں کومارناپیٹنا اورانھیں اذيتیں پہنچانا جن کاجرم صرف زخمیوں کی مدد کرناہے،وہ جملہ تشدد ہےجوبحرین میں انجام پارہاہے۔آل خلیفہ کی جیلوں میں خواتین کی توہین، اوران کی آنکھیں بندکرکےزمین پرلٹاکر انھیں کیبل اوربجلی کےوائرسےمارناپیٹنا، آل خلیفہ کی جیلوں میں خواتین قیدیوں پرہونےوالےمظالم کےدوسرےواقعات ہیں اوریہ بحرین کی جیلوں میں قیدیوں کےساتھ روا رکھےجانےوالےسلوک کی چند مثالیں ہیں۔آل خلیفہ حکومت جسےگذشتہ فروری سےعوامی بحران کاسامناہے،موجودہ حالات سےچھٹکاراپانےکےلئے ہرہتھکنڈہ اختیارکررہی ہےتاکہ شاید عوامی مظاہروں کوسرکوب کرسکے۔ سعودی ایجنٹوں سےاستفادہ، مظاہرین کی بڑےپیمانےپرگرفتاری، اورساتھ ہی پرامن مظاہروں میں شرکت کرنےوالوں کوسزائےموت کاحکم سناناان اقدامات کاایک حصہ ہےجوبحرینی حکام کےہاتھوں عوام کےغصےکی آگ بجھانےکےلئےانجام پارہےہیں۔لیکن ان اقدامات کاالٹانتیجہ نکلاہے۔کیونکہ بحرینی حکومت،مظاہرین کاقتل عام اورقیدیوں پرتشدد کی بناپرانسانیت کےخلاف جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔اس سےبھی بڑہ کربحرین کےمظاہرین اورمخالف گروہوں نےاعلان کیاہےکہ اس ملک میں عوامی مظاہروں کانیاسلسلہ شروع کرنےکی تیاری ہورہی ہے۔ پہلی جون کوبحرین میں ہنگامی حالات ختم ہونےوالےہیں۔ درایں اثنا بحرین کے ایک انقلابی گروہ نےجس نےپہلی جون کےنوجوان نامی تنظی بنائی ہےایک بیان میں اعلان کیاہےکہ اب اس کےبعد وہ چین سےنہيں بیٹھیں گے، یاکامیاب ہوں گےیاشہیدہوں گے۔ بحرین کی مجموعی صورت حال سےپتہ چلتاہےکہ مظاہرین پرآل خلیفہ کی سختیاں اورمظالم جتنےبڑھیں گے بحرینی عوام ملک کےسیاسی نظام میں تبدیلی کےلئےاتناہی پرعزم ہوں گے۔آل خلیفہ کی حکومت کی سرنگونی تک پرامن مظاہروں کاسلسلہ جاری رہنا ایساموضوع ہےجس پرتمام بحرینی گروہوں کی تاکید ہے۔
بحرین کی ایک فعال شخصیت کریماابراہیم کہتی ہیں کہ اس ملک کےعوام اب آل خلیفہ حکومت کی آمریت قبول کرنےوالےنہیں ہيں۔بحرین کےعوام اورمخالفین کےمختلف طبقات کےدرمیان اس طرح کانظریہ جڑ پکڑچکاہے۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ اب آل خلیفہ کےلئےمیدان مزيدتنگ ہوتاجارہاہے۔حکومت بحرین سمجھتی ہےکہ خوف وحشت پیداکرکےاپنی حکومت کومزید چند روزطول دےسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ بحرین میں ایک انقلاب شروع ہوچکاہے جس میں عوام کاہرطبقہ شامل ہےاوراس نے ایک آواز ہوکراعلان کردیاہےکہ اب وہ آل خلفیہ کی امتیازی سلوک اورتشدد روارکھنےوالی
استبدادی حکومت کےخلاف تحریک سےدست بردارہونےوالی نہيں ہے۔

7:32 شام مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔