لیبیاء کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں فتح کا جشن

لیبیاء میں معمر قذافی کی حکومت کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے آج بھی مظاہرے کئے ۔ مظاہرین نے آج جمعہ کے دن حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کا اعلان کررکھا تھا ۔ اس دوران ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر بن غازی پر انقلابیوں کا مکمل کنٹرول ہوجانے کے بعد لوگ اس شہر میں فتح کا جشن منارہے ہيں لیبیاء کے انقلابیوں نے اسی طرح مصراتہ اور زوارا شہروں پر بھی کنٹرول کرلیا ہے ۔ مصراتہ سے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ قذافی کی حکومت کی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو کچلنے کے لئے زہریلی گیس کا بھی استعمال کیا ہے دوسری طرف جہاں لیبیاء کے تمام بڑے شہر انقلابیوں کے قبضے میں آگئے ہيں وہيں لیبیاء کے ڈکٹیٹر قذافی کی کوشش ہے کہ جیسے بھی ہو طرابلس پر اپنا کنٹرول باقی رکھیں طرابلس میں قذافی کے غیرملکی ایجنٹوں نے مظاہرین پر شدید حملے کئے ہيں جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مارے گئے ہيں ۔ یہ بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ معمرقذافی نے ملک چھوڑنے کی تیاری شروع کردی ہے ۔
جبکہ لیبیاء اور کئی دیگر ملکوں کے قانون دانوں نے قذافی پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کی بنا پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے
دریں اثناء سب سے اہم بندرگاہی شہر بن غازی کے شہریوں نے تیل کی سپلائی کے سب سے بڑے مرکز پر کنٹرول کرلیا ہے اطالوی آئل کمپنی ؛ آنی؛ نے اعلان کیا کہ لیبیاء میں ایک ملین بیرل روزانہ تیل کی پیداوار کم ہوگئی ہے ۔ لیبیا کے فوجی جرنیلوں اور افسران کی ایک بڑی تعداد نے انقلابیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے ۔ لیبیاء کے اٹارنی جنرل نے بھی حکومت کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل عام پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفاء دے دیا ہے ایک ایسے وقت جب لیبیاء کے صدر قذافی اپنے ملک کےواقعات میں القاعدہ کو ملوث قراردے رہے ہيں لیبیاء کے سیاسی اور فوجی حکام یکے بعد ديگرے انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہيں ۔
نیٹو کے سکریٹری جنرل نے لیبیاء کی صورت حال کا جائزہ لینے کےلئےہنگامی اجلاس بلانے کو کہا ہے راسموس نے کہا کہ لیبیاء میں تیزی سے بگڑتی ہوئي صورتحال کے پیش نظر نیٹو کا فوری اجلاس ہونا چاہئے اور تازہ خبرہے کہ آج شام نیٹو کا اجلاس ہورہا ہے جس میں لیبیاء کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ ادھر طرابلس سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع شہر طبرق میں حکومت مخالف مظاہرہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے لیبیاء کے با اثر قبائل نے قذافی سے اپنی وفاداری ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔
لیبیاء کے شہر یکے بعد دیگرے انقلابیوں کے قبضے میں
لیبیا کے مزید شہروں پر انقلابیوں کا قبضہ ہوگیا ہے ۔ بن غازی اور جبل الاخضر کے بعد اب لیبیاء کے دو بڑے اور اہم شہروں زوارا، اور الزاویہ پر بھی انقلابیوں نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔
دارالحکومت طرابلس سے اطلاعات ہيں کہ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے لیبیا کے انقلابیوں اور کرنل قذافی کی طرف سے کرائے پر بلائے گئے غیرملکی ایجنٹوں کے درمیان لڑائی جاری ہے البتہ طرابلس کے بعض علاقوں پر انقلابیوں نے قبضہ کرلیا ہے ۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ان غیرملکی ایجنٹوں کے ذریعہ جنھیں کرنل قذافی نے کرائے پر بلایا ہے لیبیاء کے عوام کا بڑے پیمانے پر قتل عام ہورہا ہے۔ بعض خبروں میں یہاں تک بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران لیبیاء کے ڈکٹیٹر کرنل قذافی کی سیکورٹی فورسز فوجیوں اور غیرملکی ایجنٹوں کے ذریعہ اب تک دس ہزار نہتے لیبیائي باشندے مارے جاچکے ہيں۔
عینی شاہدوں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بن غازی میں دوہزار افراد ہلاک ہوئے ہيں جن میں بیشتر کو زندہ جلادیا گیا ہے ۔ دارالحکومت طرابلس میں بھی سڑکوں پر ایسی بہت سی لاشیں دیکھی جاسکتی ہيں کہ جن کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہيں۔
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ معمرقذافی نے بعض افریقی ملکوں سے ان ایجنٹوں کو اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کرنے کے لئے بلایا ہے یہ افراد پیلی ٹوپیاں پہنے ہوئے ہيں اور لوگوں کا انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل عام کررہے ہيں۔
لیبیائی حکومت کے غیرملکی ایجنٹوں کےذریعہ شہریوں کے قتل عام میں یہ شدت معمرقذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی اور خود کرنل قذافی کے دھمکی آمیز بیانات کے بعد آئی ہے۔
اس درمیان اطلاعات ہيں کہ لیبیاء کے وزیر دفاع نے بھی کرنل قذافی کی حکومت کی وحشیانہ کاروائیوں پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفاء اور انقلابیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
جبکہ لیبیاء کے مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات مسلسل موصول ہورہی ہیں کہ فوج کے جوان جوق در جوق انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہورہے ہيں
طبروق شہر کے فوجی اڈے کے کمانڈر بریگيڈیر سلیمان محمود نے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کے ہمراہ انقلابیوں کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں بریگیڈیر سلیمان محمود نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ ہیں۔ ماضی میں ہم قذافی کے ساتھ تھے مگر اب حالات مختلف ہيں قذافی اب ایک ڈکٹیٹر ہے۔
طبروق شہر کے مضافات میں تیل کے ذخائر ہيں فوج نے شہر کو خالی کردیا ہے اور بعض گروہوں نے اس شہر کا کنٹرول کا سنبھال لیا ہے۔
اس سے پہلے بھی لیبیاء کے کئی اعلی سفارتکاروں، وزراء اور فوجی افسران نے انقلابیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کردیا تھا ۔
دوسری طرف کرنل قذافی کی حکومت کی بہیمانہ کاروائیوں کی عالمی برادری نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ لیبیاء کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر اپنے مذاکرات معطل کررہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ، افریقی یونین اور اسلامی کانفرنس تنظیم نے بھی اپنے اپنے بیانات میں کرنل قذافی کی حکومت کی انسانیت سوز کاروائیوں کی مذمت کی ہے۔
ایسی بھی اطلاعات ہيں کہ عرب لیگ نے لیبیاء کی رکنیت معطل کردی ہے۔
عالمی برادری نے لیبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عوام کا قتل عام روک دے۔
دنیا کے کئی ملکوں نے لیبیاء سے اپنے سفارتکاروں اور شہریوں کو واپس بلالیا ہے۔
برازیل، چین، کویت اور کئی دیگر ممالک نے لیبیا سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کے اقدامات شروع کردئے ہيں اس سے پہلے ترکی سمیت کئي اور ملکوں نے بھی اپنے اپنے شہریوں اور سفارتکاروں کو لیبیاء سے واپس بلالیا ہے۔







