بحرین میں حکومت مخالف مظاہرے جاری

بحرین میں حکومت مخالف عوامی احتجاج بدستور جاری ہے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے استعفے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے.رپورٹ کے مطابق بحرین میں حکومت مخالف مظاہروں میں روز بروز شدت آتی جارہی ہے۔ لوء لوء اسکوائر پر دسیوں ہزار بحرینیوں نے مظاہرہ کرکے حکومت کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ بحرین میں گذشتہ چودہ فروری سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہررے جاری ہیں ۔ تازہ ترین احتجاجی مظاہروں میں شرکاء اپنے ہاتھوں میں بحرینی سیکورٹی فورسز اور فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے جوانوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور شہداء کے خون سے عہد وپیمان کررہے تھے کہ حکومت کی سرنگونی تک احتجاجی مظاہرے جاری رہيں گے بحرین میں گذشتہ دس روز سے جاری حکومت مخالف احتجاج میں اب تک کم ازکم نو افراد شہید پانچ سو زخمی اور ستر لاپتہ ہوچکے ہيں ۔دوسری طرف بعض ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ دسیوں شیعہ مسلمان بحرین کی جیلوں سے رہا ہوگئے ہيں بحرین کی پارلیمنٹ میں الوفاق دھڑے کے ایک رکن جاسم حسین نے آج کہا کہ حکومت نے 23 شیعہ بحرینیوں کو جیلوں سے رہا کردیا ہے ان افراد کو حکومت مخالف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان 23 شیعہ مسلمانوں کی رہائی ایک ایسے وقت انجام پائی ہے جب حکومت بحرین نے ملک میں جاری بحران اور عوامی انقلاب سے چھٹکارہ پانے کے لئے قومی سطح پر مذاکرات کی اپیل کی ہے ۔







