امریکہ، اپنے وعدوں کو نظر انداز کررہا ہے:عراق

14 جون, 2014 10:38

hosyariعراق کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ، عراق میں دہشت گردی کے مقابلے سے متعلق کئےگئے اپنے وعدوں کو نظر انداز کررہا ہے۔ عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے سی این این ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرويو میں عراق کے بعض شہروں پر دہشت گرد گروہ داعش کے حالیہ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بغداد نے عراق میں فوجی مداخلت کے لئے، واشنگٹن سے کسی بھی قسم کی درخواست نہیں کی ہے انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی سے مقابلے کے بارے میں اپنے وعدوں پر کاربند رہے ۔ یہ ایسے میں ہے کہ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے کہا ہے ان کی حکومت عراق میں فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں عراقی حکومت کی مدد کی جائے گی۔ وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اس شدت پسندی کو روکنے کے لیے ڈرون حملوں یا کسی اور کارروائی پر غور کر رہا ہے تو اوباما کا کہنا تھا کہ میں کسی بھی امکان کو رد نہیں کرتا۔ وائٹ ہاوس میں آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ سے ملاقات کے بعد باراک اوباما نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ شدت پسند عناصر عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں۔ ادھر عراقی پارلیمان میں وزیرِ اعظم نوری المالکی کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بارے میں ہونے والی رائے شماری کو ممبران کی مطلوبہ تعداد کم ہونے کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔ عراقی پارلیمان کے 325 میں سے صرف 128 ارکان رائے شماری کے وقت پارلیمان میں موجود تھے۔ القاعدہ سے منسلک دولت اسلامیہ عراق و الشام داعش نے دھمکی دی ہے کہ اس کے دہشت گرد جنوبی علاقوں کی جانب مزید پیش قدمی کریں گے جہاں دارالحکومت بغداد اور شیعہ اکثریتی علاقے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں شدت پسندوں کی جانب سے موصل اور تکریت پر قبضے کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر عراق کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا چاہیے۔

11:31 شام جون 26, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔