دھشتگردوں نے ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے بچوں کے سر قلم اور حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کئے

عراق کے صوبہ بابل کی رہنے والی ایک خاتون نے دھشتگردوں کے ہاتھوں اپنے گھر اور کنبے کے افراد کے قتل عام کئے جانے کے بارے میں دکھ بھری داستان سنائی۔
بابل کے علاقے الکیلو کی رہنے والی ’’سہام‘‘ نامی خاتون اس رات کے تلخ اور دلخراش واقعہ کی تفصیلات بتائی جس رات تکفیری درندوں نے اس کے گھر پر حملہ کر کے اس پوتوں کے سر قلم کرنے کی کوشش کی اور حاملہ بہو کا شکم چاک کیا۔
اس خاتون نے اپنے گھر پر کئے گئے دھشتگردانہ حملے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا: وہ اللہ اکبر کی آوازیں بلند کر رہے تھے اور بچوں کے سر کاٹ رہے تھے اور عورتوں کے شکم چاک کر رہے تھے۔
یہ عراقی خاتون جو درندہ صفت دھشتگردوں کے ہاتھوں اپنے پانچ پوتوں کو بچانے میں کامیاب ہو گئی نے بتایا: میں شام کا کھانا بنا رہی تھی کہ ایک مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کی آوازیں گونجنے لگیں۔
سہام نے اس حال میں کہ اس کی آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب جاری تھا کہا: جب میں نے دھشتگردوں کی تکبیر اور فائرنگ کی آوازیں سنی تو میں سجھ گئی کہ اب یہ ظالم ہم پر حملہ کریں گے تو میں اپنے پانچ پوتوں کو لے کر کپڑوں والی الماری میں چھپ گئی۔ دھشتگرد گھر میں گھسے اور میری حاملہ بہو کا شکم چاک کیا اور بچوں کے گلے کاٹنے کی کوشش کی مگر خدا نے انہیں بچا لیا۔
مسلح افراد نے گزشتہ ہفتے اسی علاقے میں دو بھائیوں کے گھروں میں گھس کر ۲۲ افراد کے سر قلم کئے اور اس کے بعد گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔








