مالکی حکومت کے خلاف سازش حرام ہےمراجع

08 جون, 2012 08:53

ayatulla sistaniامریکی و مغربی طاقتوں کے اشارے پر عراقی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے علمانی (سیکولر) سیاستدانوں کی سازشوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عراق کے کئی اہم اور بزرگ دینی شخصیات نے سیکولر سیاستدانوں سے تعاون اور مالکی حکومت کے خلاف ہرقسم کی سازش کو حرام قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق عراق کی شیعہ حکومت کے خلاف علمانی قوتوں کی سازشیں زوروں پر ہیں اور ان کوششوں کو بعض پڑوسی عرب ممالک کی مطلق العنان حکمرانوں اور ترکی کے بظاہر اسلام پسند حکومت کی حمایت حاصل ہے جو امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس حکومت کو ہر قیمت پر گرا کر عراق کی حکومت کو گرا کر اس ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں کررہے ہیں اور کئی لوگ ان کے دھوکے میں آکر ان کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ حقیقت مسلّم یہ ہے کہ اگر المالکی کی حکومت کو گرایا جائے تو اس ملک میں طویل عرصے تک
کوئی حکومت قائم کرنا ممکن نہ ہوسکے گا اور کسی اور شخصیت پر عراقی جماعتیں متفق نہ ہوسکیں گی چنانچہ عراق ایک بار پھر طویل خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ ہمسایہ عرب ممالک اور امریکہ کی کوشش بھی یہی ہے۔
عراقی حکومت کے خلاف علمانی سیاستدانوں کی سازشوں کو خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی اعلانیہ حمایت حاصل ہے اور وہ مالی امداد دے کر پہلے سے ہی اس ملک میں دہشت گردی کو تقویت پہنچارہے ہیں اور ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی عراقی حکومت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں جبکہ صدر دھڑے کے سربراہ مقتدا صدر اور بعض دوسرے عراقی سیاستدان بھی سازشیوں کے دھوکے میں آکر علمانیوں کے موقف کو تقویت پہنچارہے ہيں۔
چنانچہ متعدد عراقی دینی شخصیات اور مراجع تقلید نے اس صورت حال پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان سازشوں کو حرام قرار دیا ہے۔
مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی سید علی الحسینی السیستانی نے مقتدا صدر کے نام اپنے پیغام میں وزیر اعظم نوری المالکی سے اعتماد سلب کرنے کی کوششوں کی مخالفت کردی اور شیعیان عراق کے درمیان اختلاف ڈالنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور موجودہ حکومت کو اصلاح کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ان سے تقاضا کیا کہ وہ شیعیان عراق کو منقسم کرنے سے باز رہیں۔
ادھر عراق کے دوسرے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی السید کاظم الحسینی الحائری نے فتوی جاری کرکے عراق کی موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کی کوششوں، اس حکومت کو کمزور کرنے والے عناصر کے ساتھ ہر قسم کے تعاون، اس حکومت کے خلاف کسی قسم کے اقدام اور عراق کے سیاسی عمل میں کسی قسم کا خلل ڈالنے اور اس ملک میں اختلاف اور انتشار پیدا کرنے کے کسی بھی اقدام کو کو حرام قرار دیا۔
آیت اللہ العظمی حائری کا فتوی اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ عراق میں ان کے مقلدین کی تعداد بہت زيادہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ صدر دھڑے کے سربراہ سید مقتدا صدر بھی ان ہی کے مقلد ہیں۔
ادھر نجف میں مقیم عالم دین حضرت آیت اللہ شیخ محمد مہدی الآصفی نے ایک بیان کے ضمن میں عراق کی موجودہ حکومت کی ہمہ جہت حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی موجودہ حکومت لاکھوں عراقی شہداء کے خون کا ثمرہ ہے اور وسیع کوششوں کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔
نجف اشرف کے اس عالم دین نے کہا: المالکی حکومت کو کمزور کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں شہیدوں کے خون اور عراقی عوام کی مشقتوں کی پامالی کا سبب بنتی ہیں چنانچہ ہر وہ منصوبہ جو اس حکومت کو کمزور کرے یا ہر وہ اقدام جو عراقی عوام کے حقوق سے چشم پوشی کا باعث ہو، جائز نہیں ہے۔
آیت اللہ الآصفی نے کہا: صحیح راستہ یہ ہے کہ اختلافات سے پرہیز کیا جائے، قانون کا دامن تھاما جائے اور تعمیری اور مثبت مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔

2:16 شام مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔