طارق الہاشمی کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تصدیق

عراق میں نو ججوں پر مشتمل اعلی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کم سے کم 150 دہشت گردانہ کاررائیوں میں ملوث رہے ہیں اور طارق الہاشمی کا کئی اعلی عراقی سکیورٹی حکام اور ایرانی و غیر ایرانی زائرین کے بہمیانہ قتل میں ہاتھ ہے۔
عراق میں نو ججوں پر مشتمل اعلی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی کے ترجمان عبدالستار البیر قدارنے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی ہے کہ عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کم سے کم 150 دہشت گردانہ کاررائیوں میں ملوث رہے ہیں اور طارق الہاشمی کا کئی اعلی عراقی سکیورٹی حکام اور ایرانی و غیر ایرانی زائرین کے بہمیانہ قتل میں ہاتھ ہے نو ججوں پر مشتمل اس تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ نائب صدر طارق الہاشمی کے کنٹرول میں مسلح گروہوں نے نائب صدر کے حکم پر کئی دہشت گردکارروائیاں کیں۔
ترجمان نے کہا کہ طارق الہاشمی کے زیر نظر افراد براہ راست اس کے حکم سے قتل اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں ترجامن نے کہا کہ طارق الہاشمی کے حامی افراد نے اعتراف کیا ہے کہ قتل اور دہشت گردی کی تمام کاررائیاں طارق الہاشمی کے حکم سے انجام دی گئی ہیں انھوں نے کہا کہ طارق الہاشمی کی دہشت گردانہ کارروائی میں الاعظمیہ علاقہ کے پل الائمہ پر ہونے والی کارروائی بھی شامل ہےجس میں حضرت امام موسی کاظم (ع) کے لاکھوں زائرین کو نشانہ بنایا گیا تھا اور جس میں سیکڑوں افراد شہید ہوگئے تھے، عراق کی اعلی عدالتی کمیٹی نے متاثر افراد اور خاندانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی باز یابی کے لئے عدالت سے رجوع کریں۔
واضح رہے کہعراق کے وہابی سلفی نائب صدر طارق الہاشمی کی حفاظتی ٹیم کے اہکارورں نے طارق الہاشمی کے سیاہ کارناموں کا پردہ چاک کیا جس کے بعد عراق کے نائب صدر بغداد سے فرار ہوکر کردستان میں روپوش ہوگئے ہیں عراق کی اعلی عدالت نے طارق الہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کررکھے ہیں ، طارق الہاشمی کو سعودی عرب اور امیرکہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔








