عراق میں سعودی دہشتگردی

عراق میں سرکاری اداروں اور حکومتی ملازمین کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد عراقی حکام نے سعودی عرب کو عراق میں دہشتگردی پھیلانے کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ عراق کی قومی سلامتی کے امور میں وزیر مملکت عقیل الصفارنے کہا ہےکہ سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک عراق میں دہشتگردوں کی مالی اور فوجی حمایت کررہےہیں۔ عقیل عبدالصفارنے کہا کہ بہت سے ثبوت وشواہد موجود ہیں جن سے یقین ہوتا ہےکہ مختلف ہتھیاروں کے سائیلنسر جن سے اب تک سیکڑوں افراد موت کے گھاٹ اتاردئے گئےہیں سعودی عرب سے عراق لائے گئےہیں۔ الشرق الاوسط اخبار کے مطابق ایسے ہتھیاروں سے جن پر سائلنسر لگتےہیں اب تک چھے سوچھیاسی افراد مارےگئے ہیں۔ عراق میں ٹارگٹ کلنگ کے سلسلےمیں ایسے موقع پر تیزی آئي ہے جبکہ سیاسی پارٹیاں حکومت سازی کے لئے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے بعض حلقے عراق میں خانہ جنگي شروع کراکر ان مذاکرات کو ناکام بناناچاہتےہیں۔ حالیہ دنوں میں علاقے کے جرائد میں ایک دستاویز شایع ہوئي ہے جس سے پتہ چلتا ہےکہ سعودی عرب کے بعض حکام نے عراق میں دہشتگردوں کو ھدایت دی ہے کہ دہتشگردی تیز کردیں۔ سعودی عرب کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری بندر بن سلطان سعودی عرب کے ان حکام میں سے ہیں جن کے عراق میں سرگرم عمل دہشتگرد تنظیم القاعدہ سے قریبی تعلقات ہیں اور وہ القاعدہ کے دہشتگردوں کی مالی اور فوجی اور سیاسی حمایت کرتےہیں۔ بندر بن سلطان نے حال ہی میں القاعدہ کے دہشتگرد ابوسلیمان کو اس گروہ کا سربراہ معین کیا ہے کیونکہ ابو عمر البغدادی اور ابو ایوب المصری کو عراقی سکیورٹی فورسس نے ہلاک کردیا ہے۔ سعودی عرب کے اس اعلی عھدیدار نے القاعدہ کے دہشتگردوں کو ھدایت دی ہےکہ عراق کے حکام کو قتل کریں۔اس سے قبل بھی عراقی حکام نے اعلان کیا تھا کہ انہیں ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے پتہ چلتا ہےکہ عراق میں سرگرم عمل دہشتگرد سعودی شہر ابھا میں ٹریننگ پاتےہیں اور عراق آکر بدامنی پھیلاتےہیں۔ عراقی سکیورٹی فورسس نے سیکڑوں دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جنمیں زیادہ تر تعداد سعودی شہریوں کی ہے اور ان دہشتگردوں میں اردن اور تونس کےشہری بھی ہیں ۔ قابل ذکرہے سعودی عرب نے امریکہ ، القاعدہ اور سابق بعثیوں کے ساتھ ملکر عراق میں دہشتگرد قاتل دستوں کو پھیلادیا ہے تاکہ اس طرح عراق میں دوبارہ دہشتگردی اور بدامنی پھیلائي جاسکے۔ سعودی عرب عراق میں بدامنی پھیلاکر اس ملک پراپنے نظریات مسلط کرناچاہتاہے سعودی عرب نے جب سے عراق میں عوامی حکومت برسر کار آئي ہے اور شیعہ مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہوا ہے عراقی حکومت کی مخالفت کرنا شروع کی ہے اور طرح طرح سے بغداد کی مخالفت کررہا ہے۔








