ایران

تکفیری دہشتگرد گروہ امریکہ اور سامراجی ممالک کا نیا حربہ

KHATMI9تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئي۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ امریکہ اور سامراجی ممالک کا نیا حربہ ہے جس سے وہ مشرق وسطی کا امن تباہ کررہے ہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے علاقے کے حالات اور عراق میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کی انسانیت سوز کاروائيوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی سربراہی میں داعش کو جو مالی اور فوجی حمایت دی جارہی ہے اور یہ گروہ عراق میں اسلام کے نام پر جو انسانیت سوز کاروائیاں کررہا ہے اس کا مقصد اسلام کو تشدد پسند دین ظاہر کرنا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، صیہونی حکومت اور علاقے کے رجعت پسند ممالک عراق میں بدامی پھیلا کر عراق کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں تا کہ صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں جو ہورہا ہے وہ شیعہ سنی لڑائي نہیں ہے کیونکہ داعش میں سابق خونخوار ڈکٹیٹر صدام کے بعثی فوجی شامل ہیں اور یہ لوگ ہرگز دینی تعلیمات کی پابندی نہیں کرتے۔آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ عراق کے شیعہ اور سنی علماء نے داعش جیسے تکفیری گروہوں کےخلاف ٹھوس موقف اپنایا ہے اور یہ مجرم گروہ شیعہ اور سنی دونوں گروہوں کا قتل عام کررہا ہے یہانتک کہ اس نے سنی علماء کو قتل کردیا جو اس کی دہشتگردی کی حمایت کرنے کو تیار نہیں ہوئے تھے۔ خطیب جمعہ تہران نے داعش کے انسانیت سوز اقدامات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ سلامتی کونسل امریکہ کی غلام ہے لھذا اس نے عراق میں جاری خونریزی پر کوئي رد عمل نہیں دکھایا ہے اور اس سے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے اس کے دعوؤں کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ عراقی عوام دہشتگردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یقینا تمام دہشتگردگروہوں کو جو عراق میں سرگرم عمل ہیں شکست ہوکر رہے گي۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مردہ باد کا ملت ایران کے نعرے سے ساری دنیا میں امریکہ کی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق و شام میں کامیاب انتخابات مردہ باد امریکہ کا عملی ثبوت ہے۔ سید احمد خاتمی نے کہا کہ ایران کے ہمسایہ ملکوں کو چاہیے کہ وہ دانشمندی اور غور و فکر سے امریکہ کی فریبی چالوں سے بچیں کیونکہ ماضی کے تجربوں سے واضح ہوتا ہے کہ جس ملک نے بھی امریکہ کی پیروی کی اسے نقصان اٹھانا پڑا۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ سامراجی ملکوں کی پالیسی اسلام دشمنی ہے اور ایران کے ایٹمی معاملہ کے بارے میں بھی سامراجی ممالک اسی دشمنی پر عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران ایٹم بم کے درپئے نہیں ہے لیکن وہ مشرق وسطی کے نہایت حساس اور اسٹراٹیجیک علاقے میں اسلام ناب محمدی کی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button