تکفیری دہشتگرد گروہ داعش امریکہ کی پیداوار، کاظم صدیقی
تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ کاظم صدیقی کی امامت میں ادا کی گئي۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ عالم اسلام میں اتحاد نہ ہوتا کہ صیہونی حکومت کا خطرہ ذہنوں سے محو ہوتا جائے۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے عراق کے حالات اور عراق میں تکفیری گروہ داعش کے وحشیانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روز اول سے داعش جیسے تکفیری گروہوں کا کام قتل وغارت، تشدد اور مسلمانوں میں فتنے اور اختلافات پھیلانارہا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش اور دیگر تکفیری دہشتگردوں کو برطانیہ اور امریکہ اور ان کے مغربی حامیوں نے جنم دیا ہے اور بہت جلد ان کی لگائي ہوئي یہ آگ خود انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گي۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں اس فتنے کا ایک اور مقصد صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے ہمیشہ اسلامی ممالک میں اختلاف ڈالو اور حکومت کرو کے اصول پر عمل کیا ہے تا کہ وہ اپنی پٹھو صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم کرسکیں۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا امریکہ دین اسلام کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے کے لئے بعض لوگوں کو استعمال کرتا ہے جو اسلام کے نام پر عورتوں اور بچوں کا قتل کرتے ہیں۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے کہا کہ جہاد، اسلام کا نہایت ہی اہم اصول ہے جس کے سبب مسلمانوں کا تشخص، ناموس، اور اسلامی اقدار کا تحفظ ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ مغرب چونکہ سچے جہاد، شہادت اور اسلامی غیرت سے ڈرتا ہے لھذا اس نے دہشتگرد گروہوں کے انسانیت سوز اقدامات کو جہاد کا نام دے دیا ہے تا کہ اسلام کے بنیاد اصول جہاد کو بدنام کرسکے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ عراق میں بزرگ علماء اور مراجع کرام اور عوام کی بیداری کی برکت سے نیز علماء اہل سنت کے فتوؤں کے طفیل دشمن شیعہ سنی اختلافات پھیلانے میں ناکام رہا ہے۔ آیت اللہ کاظم صدیقی نے کہا کہ سامراج کے اھداف میں ایرانو فوبیا، شیعہ فوبیا، اور اسلاموفوبیا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں اور علماء اہل سنت کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو تکفیری دہشتگردوں کے خطروں سے آگاہ کریں۔