ایران

اختلاف پیدا کرنا کفران نعمت کا ایک مصداق ہے: آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای

ali khamnai5رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ اتحاد کو نقصان پہنچانا اور شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنا کفران نعمت کا ایک مصداق ہے۔ حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے آج بی بی دوعالم حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے، خطباء و ذاکرین کے اجتماع ميں فرمایا کہ ہمیں مذہبی کینہ پروری کو ہوا نہیں دینا چاہيئے کیوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنا، دشمنان اسلام کے ہاتھوں میں تلوار دینے کے مترادف ہے تاکہ ان کا مقصد پورا ہوجائے ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے، مواصلاتی اور الکٹرونک وسائل کے ذریعے عوامی عقائد متاثر اور اسلامی نظام اور ایران کی قابل فخر قوم کی راہ ميں انحراف پیدا کرنے کے لئے دشمنوں کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن کا مقصد، مسلمانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا اور دنیا میں شیعہ اصول و عقائد اور شیعہ معاشرے کو نمونۂ عمل بننے سے روکنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی نظام کے دشمنوں کے ان پیچیدہ منصوبوں اور سازشوں کے مقابلے ميں اسلامی نظام کے پاس انفرادی وسائل وذرائع موجود ہیں اور مجالس عزا، مذہبی انجمنیں اور منبرکے ذریعے عوام کے سامنے خطباء اور ذاکرین کے موعظے اور خطاب، ان ہی انفرادی وسائل و ذرائع میں سے ہیں ۔ حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے عالم اسلام کے قائدین اور بزرگان قوم و ملت کو، وحدت و اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا حضرت امام خمینی (رح) اس بات کا باعث بنے کہ عالم اسلام، خواہ شیعہ ہو یا غیر شیعہ، اپنے مسلمان ہونے پرفخر کرے ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے شہزادی کونین حضرت فاطمۃ الزہراء کی زندگي کا عظیم درس معاشرے کے لئے کوشش کرنا اور پاکیزہ زندگي گذارنا قرار دیا اور فرمایا کہ مذہبی مجالس و محافل، دین کے درخشاں ستاروں کی زندگي کے اہم دروس بیان کرنے کی مخصوص جگہ اور مواقع ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button