امریکا کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گاآيت اللہ سيد احمد خاتمي
تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطيب آيت اللہ سيد احمد خاتمي نے اسلامي انقلاب کے جشن عشرہ فجر کے آغاز کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام خميني رحمت اللہ عليہ کي قيادت ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي نے ايراني قوم کو ستاون سالہ دين مخالف حکومت کے تسلط سے آزادي اور خودمختاري عطا کي۔ انہوں نے عشرہ فجر کي تقريبات زيادہ سے زيادہ پرشکوہ انداز ميں منانےکي ضرورت پر زور ديا اور کہا کہ شہيدان انقلاب اور اسي طرح ايران پر بعثي صدامي حکومت کي مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے شہيدوں کے راستے کو جاري رکھنے کي ضرورت ہے ۔ تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطيب نے ايراني قوم کي پينتس سالہ سربلندي کو استقامت اور پائيداري کا مرہون منت بتايا اور کہا کہ امريکا مردہ باد کے نعرے نے ايراني قوم کو عزت و سربلندي اور عظمت تک پہنچايا ہے ۔
انہوں نے امريکي صدر باراک اوباما، وزير خارجہ جان کيري اور ديگر امريکي حکام کي فوجي حملے کي دھمکيوں کے بارے ميں کہا کہ يہ دھمکياں کوئي اہيمت نہيں رکھتيں اور ايراني قوم ہر جارحيت کا اسي سطح پر جواب دے گي۔ تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطيب نے کہا کہ جيسا کہ قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا ہے اسلامي جمہوريہ ايران کبھي بھي ايٹم بم بنانے کي فکر ميں نہيں رہا اور ہرگز ايٹمي اسلحہ نہيں بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ يہ امريکا ہے جس نے ايٹمي اسلحہ استعمال کيا ہے اور جاپان کے شہروں ہيروشيما اور ناگاساکي پر ايٹمي بمباري کرکے دسيوں ہزار بےگناہوں کو موت کي نيند سلاديا۔ انہوں نے مستقبل کي بابت انساني معاشرے کو لاحق تشويش کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انساني معاشرے کے مستقبل کو امريکا اور صيہوني حکومت کي جانب سے خطرات لاحق ہيں۔
انہوں نے حزب اللہ کو دہشتگرد تنظيم قرار دينے کےامريکا کے اقدام کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ دہشتگرد تنظيم نہيں ہے کيونکہ وہ غاصب اسرائيل کے مقابلے ميں اپني سرزمين لبنان کا دفاع کرتي ہے۔
انہوں نے اسي طرح شام کے بحران کے حل کے لئے جنيوا دو کانفرنس کي ناکامي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کو حل کرنے کا صحيح طريقہ يہ ہے کہ امريکا اور اس کي اتحادي علاقے کي رجعت پسند حکومتيں دہشتگرد گروہوں کو اسلحے کي سپلائي اور ان کي حمايت و پشت پناہي بند کرديں۔
تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطيب نے شام کے تعلق سے انساني حقوق کي عالمي تنظيموں کي کارکردگي پر بھي تنقيد کي اور کہا کہ امريکا نے ايسي حالت ميں دہشتگرد گرہوں کے لئے اسلحے کي سپلائي دوبارہ شروع کي ہے کہ جنيوا دو کانفرنس جاري تھي۔ شام ميں دہشتگرد گروہ امريکي اسلحے کے ذريعے انسانيت سوز جرائم کا ارتکاب کررہے ہيں ليکن انساني حقوق کي تنظيموں نے خاموشي اختيار کررکھي ہے۔
تہران کے خطيب جمعہ آيتي اللہ سيد احمد خاتمي نے مصر کے حالات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر ميں فوجي، حسني مبارک کے دور کي آمريت دوبارہ لانے اور مصر کو ايک بار پھر اسرائيل کا اتحادي بنانے کي کوشش کررہے ہيں۔
انہوں نے آخر ميں بحرين ميں آل خليفہ حکومت کے، علما کي کونسل کو تحليل کرنے کے اقدام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحرين کي حکومت دين اور اسلام کي مخالف ہےاور عوام پر مظالم ڈھا رہي ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آل خليفہ ظلم و زيادتي سے کام ليکر اپنے اقتدار کو بچانے ميں کامياب نہيں ہوسکيں گے۔