یورینیم کی افزودگی، ایران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوا ہے اور ایران، یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انھوں نے ایران کے ٹیلیویژن سے گفتگو میں گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کا کوئی حق ضایع نہیں ہوا ہے اور مشترکہ طور پر کچھ اقدامات عمل میں لائے جانے کے بارے میں اتفاق رائے ہوا ہے جس میں یورینیم کی افزودگي کے حق سے دستبردار ہونے کا کوئی مسئلہ شامل نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ طے پایا ہے کہ فریقین کی جانب سے کئے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد کا آئندہ چھے مہینوں میں جائزہ لیا جائے گا اور مقابل فریق نے اگر وعدے کی خلاف ورزی کی تو ایران، یورینیم کی بیس فیصد افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کردے گا۔واضح رہے کہ ایران نے جنیوا سمجھوتے کے مطابق یورینیم کی بیس فیصد افزودگی کا عمل وقتی طور پر بند کردیا ہے۔