ایران

شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی مداخلت خطے کیلئے تباہ کن نتائج کا باعث بنے گی، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا انتباہ

imam khamnai5فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شام میں ہر قسم کی فوجی مداخلت سے باز رہیں اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو جان لیں کہ خطے پر اس کے تباہ کن اثرات ظاہر ہوں گے اور امریکہ کو ماضی میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مانند اس بار بھی یقینا شدید قسم کے نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔ وہ آج بدھ کی صبح تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر روحانی اور انکی کابینہ سے ملاقات کر رہے تھے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں بیرونی قوتوں کی جانب سے فوجی مداخلت کا نتیجہ آتش افروزی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ ولی امر مسلمین جہان نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے فوجی مداخلت خطے کی اقوام میں ان کے خلاف نفرت کو مزید شدت بخش دے گی۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ شام کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ممکنہ فوجی حملہ بارود کے بڑے ذخیرے میں اس شعلے کی مانند ہو گا جس کی وسعت اور اس کے اثرات کا اندازہ تک لگانا ممکن نہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے خطے کی انتہائی بحرانی اور حساس صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"ہم ہر گز مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خواہاں نہیں، لیکن مصری عوام کے قتل عام پر اپنی آنکھیں بھی بند نہیں کر سکتے”۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ ہم مصر میں نہتے عوام کے قتل عام کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ولی امر مسلمین جہان نے فرمایا کہ اس قتل عام کا ذمہ دار جو کوئی بھی ہو اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک قابل مذمت ہے۔ آپ نے مصر میں خانہ جنگی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر میں خانہ جنگی عالم اسلام اور خطے کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو گی۔

قائد انقلاب اسلامی ایران نے مصر کی جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کی جانب واپسی پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ مصری عوام سالوں سال آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کے بعد اسلامی بیداری کی برکت سے آزاد اور شفاف انتخابات برگزار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور جمہوریت کا یہ سلسلہ روکا نہیں جا سکتا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button