ڈاکٹر حسن روحانی اور کابینہ، امام راحل کے مزار پر
اس موقع پر صدرجناب حسن روحانی نے کہا کہ امام خمینی قدس سرہ ملک کو ہمہ گير ترقی دلانے، جمہوریت، اسلامی اور انسانی اقدار کو فروغ دینے اور انسانی فضائل کی ترویج کے اھداف رکھتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وہ اور ان کی کابینہ آج امام خمینی کی باعظمت روح کے سامنے اس عھد پر تاکید کرتی ہے جو اس نے عوام سے کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تمام مسائل کے باوجود عوام اور قائد انقلاب اسلامی کی حمایت سے مشکلات کو حل کرنے کی امید رکھتی ہے۔ صدر مملکت نے علاقے کے حالات پر شدید افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شام کے حالات اور اس ملک میں کیمیاوی حملوں میں بہت سے لوگوں کے مارے جانے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ صدر جناب حسن روحانی نے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خود کیمیاوی ہتھیاروں کا شکار ہے اور عالمی برادری کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہےکہ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کےلئے اپنی سارے وسائل وذرائع بروے کار لائے۔ انہون نے لبنان میں جاری بدامنی، دہشتگردی اور صیہونی حکومت کی جارحیت کی بھی مذمت کرتےہوئے کہا کہ لبنان کے حالات سے پتہ چلتا ہےکہ دشمنوں نے مشرق وسطی کے لئے وسیع سازشیں تیار کررکھی ہیں اور یہ سازشیں اس وقت شام، لبنان اور مصرم میں عیاں ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ علاقے میں عدم استحکام یقینا مسلمانون اور علاقائي عوام کے نقصان اور صیہونی حکومت کے فائدے میں ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیاکہ علاقے کی قوموں اور حکومتوں کی ہوشیاری سے علاقے میں امن و ثبات قائم ہوگا۔ صدرروحانی اور ان کی کابینہ کے افراد نے سابق صدر اور وزیر اعظم شہید رجائي اور شہید باہنر کے مزاروں پر بھی حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔