سعودی عرب مغرب کا آلہ کار
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن احمد بخشایش اردستانی نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب، علاقے میں امن و امان قائم کرنے کےلئے ایران کے ساتھ تعاون کرے تو ملکوں کے باہمی اختلافات بہت کم ہوجائيں گے۔ احمد بخشايش اردستانی نے پارلیمنٹ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب نے اپنی بندرگاہوں پر بحری جہازوں کی شناخت کے لئے جدید ترین راڈار نصب کئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مغرب کی پیروی کرنے والا اور مغرب کا سب سے بڑا آلہ کار ملک ہے اسی وجہ سے وہ مغرب کی پالیسیوں کے مطابق ہی اپنی پالیسیاں بناتا ہے تاکہ اس طرح سے زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اس رکن نے کہا کہ سعودی عرب ہرروز دس ملین بیرل پٹرول برامد کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت علاقے بالخصوص خلیج فارس کے علاقے پر اثرانداز ہونے کے لئے سعودی عرب کو استعمال کرتےہیں تاکہ جس طرح ہوسکے اسلامی بیداری کو منحرف کرکے اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔ بخشایش اردستانی نے کہا کہ سعودی عرب نے اپنی بندرگاہوں پر جدید ترین راڈار نصب کرکے مغرب کی اطاعت کی ہے لیکن علاقے کی انقلابی قومیں اس اقدام کو نظر انداز نہیں کریں گي اسکے علاوہ سعودی عرب میں داخلی کشمکش بالخصوص قطیف کی صورتحال بگڑتی جائے گي۔ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب نے اپنی بندرگاہوں میں اے آئي ایف اور ایے آئي ایس نوعیت کے راڈار نصب کئےہیں تاکہ ایران آنے والے تمام بحری جہازوں کی شناخت کرسکے۔