ایران
انتخابات کی صورت میں مذہبی ہی اقتدارمیں آئيں گے آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

رہبرانقلاب اسلامی کی نظرمیں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےحکام سفارتی میدان میں فرنٹ لائن پرسرگرم عمل ہیں۔ آج کی دنیامیں سفارتکاری ایک پیچیدہ چیز اورملکوں کےمفاد کےحصول کامیدان ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کےسفیر،ان مسائل سےروبروہونےکےساتھ ہی دنیامیں اپنےدوسرے ہم منصبوں سےزیادہ بڑی ذمہ داری کےحامل ہیں کیونکہ وہ ایسے نظام کےنمائندے ہیں جوبرتری اور تسلط پسندی کےخلاف جدوجہد کی بنیاد پرتشکیل پایاہے۔انقلاب اسلامی کی کامیابی کےبعد سے ہی مغربی تجزیہ نگار حتی بعض صیہونی حکام نےایران میں اسلامی حکومت کو صدی کاسب سب سےبڑا زلزلہ قراردیا۔امریکہ کی سرکردگی میں تسلط پسندنظام بھی اسی وجہ سے اسلامی انقلاب کےبعد سےہی خوف زدہ ہے جسےوہ انقلاب کےاسلامی پیغام کی برآمد سےتعبیرکرتاہے۔ حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی کل کی ملاقات میں تاکید فرمائی کہ اسلام ، ظلم کےخلاف جنگ کرنےوالاہے اور تسلط کوقبول نہیں کرتااوراسی بنا پر تسلط پسند نظام،علاقےکی قوموں میں اسلام کی جانب بڑھتےہوئےرجحان سےتشویش میں مبتلاہے اورکوشش کرتاہے کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں گذشتہ ایک برس کےدوران آنےوالےانقلابات کےاسلامی رنگ کومعمولی ظاہرکرے۔ موجودہ حالات میں رہبرانقلاب اسلامی کےگذشتہ بیانات کےبعض حصوں کی یاد دہانی کراناضروری ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےچند سال قبل وہائٹ ہاؤس اور اس سےوابستہ ڈکٹیٹروں کی جانب سے خود آزاد انتخابات کی مخالفت کےاسباب بیان کرتےہوئےتاکیدفرمائی تھی کہ اگرعلاقےکےاسلامی ممالک میں آزاد انتخابات ہوں تویقینا عوام کےووٹوں سے ایک خودمختار مذہبی اورقومی شخصیت ہی اقتدارمیں آئےگی۔ مغربی ممالک اور علاقےکےبعض حکام جومشرق وسطی میں جاری تبدیلیوں اور وابستہ حکام کی سرنگونی کواپنے نقصان میں دیکھتےہيں یہ کوشش کررہےہیں کہ سرنگوں ہونےوالوں کی جگہ اپنےمدنظرافراد کواقتدارمیں لائيں ۔ وہ اس مقصد کوحاصل کرنےکےلئے اپنی پوری سفارتی طاقت سے اپنی قوموں کی رائےعامہ کو عوامی تحریکوں کےاسلامی تشخص کی جانب سےموڑ دیناچاہتےہیں ۔واضح ہےکہ ان حالات میں بیرونی ممالک میں اسلامی سفیروں پرسنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےاسی بنیاد پر تاکید فرمائی ہے کہ ایران کی سفارتکاری، اسلامی اقدار اورعوام کی موجودگی پرمبنی اسلامی جمہوریہ کی نئی بات کی وضاحت کرتےہوئے موثرکرداراداکرے۔