ایران

فلسطین کانفرنس شروع، رہبر معظم کا خطاب

shiitenews plstn-conf-hallفلسطینی انتفاضہ کی حمایت میں پانچوین بین الاقوامی کانفرنس آج سے تہران میں شروع ہوئي۔ اس کانفرنس کا افتتاحیہ خطاب رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا۔ کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد، پارلمنٹ کے اسپیکر ڈ اکٹر علی لاریجانی اور عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی نیز دیگر اعلی رتبہ سول اور فوجی حکام شریک تھے۔ انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں پانچوین بین الاقوامی کانفرنس میں پچاس مختلف ملکوں کی پارلیمانوں کے اعلی رتبہ وفود اور فلسطینی تنظیموں کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس فلسطین فلسطیینوں کا وطن کے زیر عنوان دو روز تک جاری رہے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتفاضہ کی حمایت میں پانچویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں فرمایا کہ مغرب آج دو راہے پر کھڑا ہے اسے یا اپنی تسلط پسندی سے دستبردار ہوکر فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کرنا پڑے گا یا کاری ضربوں کا منتطر رہنا پڑے گا جو بہت دور نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جس چيز سے صیہونی حکومت کو خطرہ لاحق ہے وہ ایران اور حزب اللہ کے میزائل نہیں ہیں بلکہ اسلامی ملکوں کے مردوں اور خواتین کا پختہ عزم و ارادہ ہے جو اس سے زیادہ سامراج کے تسلط کو برداشت نہیں کرسکتے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہم نہ یہ کہتے ہیں کہ تارک وطن یہودیوں کو سمندر میں پھینک دیا جائے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی ثالثی کی تجویز پیش کرتے ہیں بلکہ ہم تمام فلسطینیوں کے لئے ریفرنڈم کے خواہاں ہيں۔ حضرت آیت اللہ العظمي خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکی صدر یہ کہتے ہیں کہ اسرائيل کی سلامتی ان کی ریڈ لائن ہے لیکن انہیں جان لینا چاہیے کہ ان کی ریڈ لائن علاقے کی انقلابی قوموں کے ہاتھوں ٹوٹ جائے گي۔
رہبرانقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کو اسلامی ملکوں کے مشترکہ مسائل کا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ آپ نے بعض فلسطینی گروہوں کے معرض وجود میں آنے اور ایسی جدو جہد سے انحراف جسے shiitenews rahbar-larijan-ahmadiعوام کی حمایت حاصل تھی، نیز مزاحمت کے معرض وجود میں آنے اور اس کے نشیب وفراز کی طرف اشارہ کیا۔ آپ نے بعض فلسطینی گروہوں کے ساز باز مذاکرات پر راضی ہونے، اور بعض عرب ملکوں کے صیہونی حکومت کے سامنے جھک جانے کہ جو کسی خیانت سے کم نہیں تھا اور جو مصر کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے پر منتج ہوا، ان امور کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ یہ سارے امور اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے ملت فلسطین کی مزاحمتی تحریک کے وجود میں آنے کا سبب بنے۔ آپ نے فرمایا کہ جنوبی لبنان میں صیہونی حکومت کی شرمناک شکست اور غزہ میں اس کی ناکامی ملت فلسطین کی تحریک کی درخشان کامیابیاں ہیں جو اپنے حقوق کا دفاع کر رہی ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فلسطینی انتظامیہ کو بھی ایسی انتظامیہ قراردیا جو صیہونیوں کے سامنے تسلیم ہے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کو نظر انداز کررہی ہے۔ آپ نے تاکید فرمائي کہ جو چيز فلسطینی قوم کو اس کے حقوق واپس دے گي فلسطینی سرزمین کے ایک حصے کی آزادی نہیں بلکہ حقیقی معنی میں پوری سرزمیں فلسطین کی آزادی ہے۔ آپ نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائي کہ امریکہ اور اسرائيل نے بارہا یہ بات ثابت کر دی ہےکہ وہ اس طرح کے معاہدوں کے پابند نہیں ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ہر وہ تجویز جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کو نظر انداز کیا گيا ہو اور جس میں فلسطین کی تقسیم کی بات کی گئی ہو وہ ناقابل قبول ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دو حکومتوں کا مطلب فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کو نظر انداز کرنا اور انیس سو اڑتالیس کی سرزمین میں ساکن فلسطینیوں کے حقوق کو خطرے سے دوچار کرنا اور صیہونی حکومت کے سرطانی پھوڑے کا باقی رہنا اور فلسطینی قوم پر کئي دہائيوں سے جاری مظالم کا سلسلہ جاری رہنا ہے۔ 
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی تجویز ایک روشن تجویز ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی منطق عالمی سطح پر تسلیم shiitenews rahbar-plstn-conf1شدہ منطق ہے۔ کیونکہ اس میں نہ اسلامی فوج کی کلاسک جنگوں کی بات کی گئی ہے اور نہ ہی مہاجر یہودیوں کو سمندر میں پھینکنے کی تجویز دی گئي ہے نہ ہی اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی ثالثی کی بات کی گئی ہے بلکہ ایران نے پوری فلسطینی قوم کے لئے ریفرنڈم کی تجویز پیش کی ہے کیونکہ ملت فلسطین کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرے اور فلسطین کی پوری قوم، جس میں مسلمان اور عیسائي شامل ہیں، نہ کہ دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے تارکین وطن ، اس ریفرینڈم میں شرکت کرے اور اس ریفرنڈم سے ان کی قسمت کا بھی فیصلہ ہوجائے گا جو ترک وطن کر کے فلسطین آئے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کے صدر کے ان بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسرائیل امریکہ کے لئے ریڈ لائن ہے فرمایا کہ کیا یہ ریڈ لائن امریکی عوام کے مفادات کے مطابق کھینچی گئی ہے یا امریکہ کے صدر کو الیکش کے دوسرے دور کے لئے نیز اپنی کرسی باقی رکھنے کے لئے صیہونی لابی کی حمایت کی ضرورت ہے؟ رہبرانقلاب اسلامی نے یورپ اور امریکہ میں بہت سی سماجی اقتصادی اور اخلاقی برائيوں کا سبب امریکہ اور یورپ کی حکومتوں پر صیہونیزم کے ہمہ گیر تسلط کو قراردیا جوکہ اپنے ناجائز مفادات کو صیہونی حکومت کی حمایت میں دیکھتی ہیں۔ 
رہبرانقلاب اسلامی کے خطاب کو بارہ بین الاقوامی ٹی وی چینلوں نے براہ راست نشر کیا ہے۔ ان ٹی وی چینلوں میں العالم، الجزیرہ، پریس ٹی وی، المنار، الفرات، بلادی ، آفاق، این بی سی، القدس، فلسطین الیوم، الاتجاہ اور الکوثر شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button