یمن میں مساجد پر بمباری کرنے والے حرمین کے محافظ نہیں ہو سکتے، یمنی ہیومن رائٹس
شیعیت نیوز : یمن کی قومی ہیئت برائے انسانی حقوق نے صوبہ تعز کے دور افتادہ گاؤں جاشع کی ایک مسجد پر سعودی فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے نے اسلامی مقدسات اور دینی شعائر سے سعودی رجیم کی دشمنی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، جو جنیوا کنونشنز کے اضافی پروٹوکول اول کی دفعہ 53، چوتھے جنیوا کنونشن کی دفعہ 27 اور عالمی فوجداری عدالت کے روم اسٹیچوٹ کی دفعہ 8 کے تحت ممنوع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تعز اور صعدہ پر سعودی بمباری، فیکٹری کے 3 مزدوروں سمیت 8 شہری شہید
ہیئت نے کہا کہ یہ حملہ سعودی رجیم اور اس کے ہمنوا ذرائع ابلاغ کے اس دعوے کی بھی قلعی کھول دیتا ہے کہ یمنی افواج مکہ اور مدینہ کو نشانہ بناتی ہیں۔ جو لوگ یمن کی مساجد پر بمباری کر رہے ہیں وہ حرمین کے تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتے، جبکہ ان مقدسات کے اصل محافظ یمنی عوام اور ان کی مسلح افواج ہیں۔
ہیئت نے سعودی رجیم کو اس حملے کا مکمل قانونی اور فوجداری ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کو دستاویزی شکل دے دی گئی ہے، اور عالم اسلام کے علماء، الازہر، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری سے اس حملے کی مذمت اور سعودی دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔







